1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

زوجہ‏، بہن‏، دو بھتیجے اور ایك بھتیجی كے درمیان تقسیم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان کرام اس مسئلہ ذیل کے بارے ے میں, سید آفاق اشرف کا انتقال ہوگیا ہے ان کے دو بہائی اور دو بہنں تھیں ایک بھائی اور ایک بہن کاانتقال ہوچکا ہے ابھی ان کی ایک بہن حیات سے ہے اور وہ لاولد ہے .. اور ابھی ان کی اہلیہ حیات سے ہیں ان کے دو بھتیجے اورتین بھتیجیاں ہیں اور ایک بھابی بھی ہیں جو حیات سے ہیں .. مذکورہ بالاباتوں سے یہ مسئلہ درپیش ہے کہ مرحوم سید آفاق اشرف کی جائیداد کا بٹوارہ کس طرح کیا جائے ؛ (1) ان کی بہن جو حیات سے ہیں ان کا حق کتنا ہوگا ؟ (2) ان کی اہلیہ جو حیات سے ہیں ان کاحق کتنا ہوگا ؟ (3) جو بہن ان کے انتقال سے پہلے فوت کرگیں ہیں ان کا حق یوگا یا نہیں اگر ہوگا تو کتنا ہوگا ؟ (4) جو بھائی انتقال کرگئے ہیں ان کے وارثان کو کتنا حق ملے گا؟

جواب

Fatwa : 246-181/B=03/1442

 صورتِ مذکورہ میں اگر سید آفاق اشرف کے بھائی بہن اُن سے پہلے انتقال کرچکے ہیں تو موجودہ ورثہ میں سید آفاق اشرف کا کل ترکہ قرآن و حدیث کے اصول کے مطابق آٹھ سہام میں تقسیم ہوگا، جن میں سے بیوی کو ایک چوتھائی یعنی ۲/ سہام ملے گا، اور بہن کو تنہا ہونے کی وجہ سے آدھا یعنی ۴/ سہام ملیں گے، اور باقیماندہ عصبہ کی حیثیت سے ایک ایک سہام دونوں بھتیجوں کو مل جائیں گے۔ بھتیجی چونکہ ذوی الارحام میں سے ہے اس لئے وہ عصبہ کے ہوتے ہوئے محروم ہو جائے گی۔

کل حصے  =       ۸

-------------------------

زوجہ     =       ۲

اخت     =       ۴

ابن الاخ          =       ۱

ابن الاخ          =       ۱

بنت الاخ=        محروم

--------------------------------

نوٹ:۔ اگر کوئی بھائی زندہ ہو تو دوبارہ لکھ کر مسئلہ معلوم کرلیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600749
تاریخ اجراء :07-Nov-2020

فتوی پرنٹ