1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

تقسیم وراثت اور نابالغ وارث ہوتے ہوئے تصالح

سوال

تقسیم وراثت اور نابالغ وارث ہوتے ہوئے تصالح

جواب

Fatwa:249-75T/SN=4/1442

 صورت مسئولہ میں چچا نے جائداد کی جو تقسیم کی ہے وہ شرعی تقسیم نہیں ہے ، اگر ورثا میں نابالغ اولاد موجود ہو تو باہمی رضامندی سے بھی تصالح جائز نہیں ہے (دیکھیں: در مختار مع الشامی ،مطبوعہ: مکتبہ زکریا، دیوبند)؛ اس لیے جائداد کی از سر نو تقسیم کرلی جائے ۔ اگر شخص مذکور کی وفات کے وقت ان کے والدین اور بیوی میں سے کوئی، اسی طرح اہلیہ کے انتقال کے وقت ان کے والدین میں سے کوئی حیات نہ تھا تو صورت مسئولہ میں باپ ماں دونوں کا ترکہ (زمین، مکان ،روپیہ پیسہ، زیورات اور دیگر اثاثہ) بعد ادائے حقوق مقدمہ علے الارث، کل11/حصوں میں تقسیم ہو کر دو دو حصے ہر ایک بیٹے کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا ۔ نوٹ: بہنوں کو جو کچھ زمین چچا نے یہ کہ کر دی تھی کہ یہ تمہارا حصہ ہے ، بقیہ بیٹوں کو ملے گا ، اگر وہ زمینیں ابھی ان کے پاس ہیں تو بعینہ انھیں تقسیم میں شامل کیا جائے ، اگر وہ فروخت ہوچکی ہیں یا ان میں کوئی ایسا تصرف ہوچکاہے کہ واپس نہیں لی جاسکتی تو ان کی مالیت کو تقسیم ِترکہ میں ملحوظ رکھا جائے ، مجموعی ترکہ سے ہر بہن کو جتنا حصہ ملتا ہے ، اگر وہ ہر ایک بہن کے لیے حصے سے زیادہ ہے تو انھیں اتنی مقدار مزید دیدی جائے ، اگر بہنوں نے اپنے اپنے حصے سے زیادہ لیاہے تو ان پر ضروری ہے کہ اضافی حصہ وہ بھائیوں کو واپس کریں ،اصولا ان پر یہی ضروری ہے ؛ باقی اگر بھائی لوگ بہ خوشی معاف کردیں تو الگ بات ہے ۔ نقشہ تخریج حسب ذیل ہے :

مرحوم اہلیہ:             مسئلہ: ۱۱

ابن          2

ابن          2

بیٹی           1

بیٹی           1

بیٹی           1

بیٹی           1

بیٹی           1

--------------------------------

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :601156
تاریخ اجراء :22-Dec-2020

فتوی پرنٹ