1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عقائد و ایمانیات
  3. حدیث و سنت

رخسار پر اُگے بالوں کو کس حد تک كاٹا جاسكتا ہے؟

سوال

رخسار پر اُگے بالوں کو کس حد تک كاٹا جاسكتا ہے؟

جواب

Fatwa:249-193/N=5/1442

 بعض لوگوں کو داڑھی کے ساتھ رخسار (گال)پر بھی بال آجاتے ہیں تو چوں کہ رخسار کے بال داڑھی میں شامل نہیں ہیں؛ لہٰذا رخسار کے بال صاف کرنے، یعنی: خط بنوانے کی شرعاً اجازت ہے؛ البتہ رخسار کے بال استرہ یا بلیڈ کے بجائے قینچی سے صاف کرنا بہتر ہے (بہشتی زیور مدلل، ۱۱: ۱۱۵، مسئلہ: ۷، مطبوعہ: کتب خانہ اختری متصل مظاہر علوم سہارن پور، داڑھی اور انبیاء کی سنتیں، ص: ۵۵، مطبوعہ: مکتبہ حجاز دیوبند) اور رخسار کے بال صاف کرنے میں اس کا خیال رہے کہ داڑھی کے بال نہ کٹنے پائیں۔ اور داڑھی کے بال وہ ہیں، جو جبڑے پر ہوتے ہیں، جو ایک کان کے اوپری حصے کے کچھ مقابل اٹھی ہوئی ہڈی سے شروع ہوتا ہے اور دوسری طرف کان کے اوپری حصے کے کچھ مقابل اُٹھی ہوئی ہڈی پر ختم ہوتا ہے۔

وفی المضمرات:ولا بأس بأخذ الحاجبین وشعر وجھہ ما لم یشبہ المخنث، تاترخانیة (رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فی البیع وغیرہ، ۹:۵۸۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

أما الأشعار التي علی الخدین فلیست من اللحیة لغة وإن کرہ الفقہاء أخذھا؛ لأنہ إن کان بالحدید یوجب الخشونة في الخدین، وإن کان بالتنف فإنہ یضعف البصر (فیض الباري، ۴: ۸۰)۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :601412
تاریخ اجراء :28-Dec-2020

فتوی پرنٹ