1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عقائد و ایمانیات
  3. حدیث و سنت

كونسا درود پڑھنا سب سے افضل ہے؟

سوال

كونسا درود پڑھنا سب سے افضل ہے؟

جواب

Fatwa:264-237/sd=5/1442

 صحابہ کرام سب سے زیادہ کونسا درود شریف پڑھتے تھے ؛ اس سلسلے میں کوئی تصریح نہیں مل سکی؛ البتہ بخاری و مسلم میں یہ حدیث آئی ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت قرآنی ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی نازل ہوئی ، تو ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا آپ ہمیں درود کا طریقہ بتلادیجیے ، آپ نے فرمایا کہ یہ الفاظ کہا کرو: اللّٰہم صل علی محمد، وعلی آل محمد، کما صلیت علی إبراہیم، وعلی آل إبراہیم إنک حمید مجید، اللّٰہم بارک علی محمد، وعلی آل محمد، کما بارکت علی إبراہیم، وعلی آل إبراہیم إنک حمید مجید، اسی کو درود ابراہیمی کہا جاتا ہے ۔عن کعب بن عجرة رضی اللہ عنہ، قیل: یا رسول اللہ، أما السلام علیک فقد عرفناہ، فکیف الصلاة علیک؟ قال: " قولوا: اللہم صل علی محمد، وعلی آل محمد، کما صلیت علی آل إبراہیم، إنک حمید مجید، اللہم بارک علی محمد، وعلی آل محمد، کما بارکت علی آل إبراہیم، إنک حمید مجید "۔ ( بخاری، رقم: ۴۷۹۷) محدثین اور فقہاء نے لکھا یہ کہ درود سب سے افضل ہے ۔

قال ابن نجیم: ویستحب فی کل دعاء أن تکون فیہ الصلاة علی النبی اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد اہ.۔وہو یقتضی أنہ یصلی علیہ فی القنوت بہذہ الصیغة وہو الأولی۔ قال ابن عابدین فی المنحة: (قولہ وہو الأولی) لعل وجہہ کونہ موافقا لقولہ - علیہ الصلاة والسلام - قولوا اللہم صل علی محمد إلخ لما قیل لہ کیف نصلی علیک ولہذا قال بعضہم إنہا أفضل الصیغ وبہا یخرج عن العہدة بیقین بخلاف غیرہا.۔ ( البحر الرائق مع منحة الخالق: ۴۷/۲، دار الکتاب الاسلامی)مزید تفصیل کے لیے دیکھیے : فضائل اعمال، جلد اول، فضائل درود، ص: ۶۸۵، ادارہ دینیات، ممبئی۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :601248
تاریخ اجراء :28-Dec-2020

فتوی پرنٹ