1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. طلاق و خلع

غصہ میں اپنی بیوی سے یہ کہہ دیا ”اگر تم نے اپنی بہن سے رشتہ رکھا یا بات کی تو تمہیں تین طلاق“ كہہ دینے سے كیا طلاق ہوجائے گی؟

سوال

میرا مسلہ یہ ہے کہ میری چچازاد سالی کے شوہر نے اسے اپسی جھگڑے میں طیش میں آکر تین طلاق دے دیں فلوقت- اور اسوقت وہ حمل سے تھی۔ بعد میں دونوں نے ساتھ رہنے پر اکتفہ کر لیا۔ میں نے گھر والوں کو بھی سمجھایا علماوں سے بھی رابطہ قایم کیا سبھی نے کہا کے طلاق ہو گء پر میری مرضی کے بغیر میری لا علمی میں اسے واپس وداع کر دیا بغیر حلالے کے ۔۔۔ میری ذووجہ سے اسی مسلے کے تحت بحث ہو گء میں نے اسے اپنی بہن سے بات کرنے کو منع کیا پر وہ بضد تھی کے میں تو ملونگی- میں نے غصے میں آکر کہ دیا کے اگر تم نے اپنی بہن سے رشتہ رکھا یا بات کی تو تمھیں تین طلاق۔ اس بات کو تقریبا 6 سال ہو گیے اور ان لوگوں نے آپس میں بات نہیں کی۔ اس دوران پھر ان دونوں کا یعنی میرے ہم ذلف اور سالی کا معملا ختم ہو گیا دونو نے تعلق ختم کر لیا۔ اب میرے سالے سے اسکی شادی کی بات چل رہی ہے ۔ اور کچھ وقت میں ہو بھی جایگی انشائاللہ ۔ اب میرا مسلہ یے کے کیا میری بیوی اپنی بہن سے بات کر سکتی ہے ؟ اور اگر نہیں تو اسکی دوسری کوئی شکل ہو سکتی ہے ؟ یا کوئی اور راستہ جس سے دونوں آپس میں بات کرنے لگیں ۔ کیونکہ اگر شادی کے بعد میری بیوی کا فون میری سالی نے یا میری سالی کا فون میری بیوی نے اٹھا لیا تو کیا طلاق واقع ہو جایگی اسکا حل بتایں_ ایک عالم صاحب نے یے حل بتایا تھا کے حمل کے آخری دنوں میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دیں اور فراغت (زچگی) کے بعد پھر سے اپنی بیوی سے نکاح کر لین_ یا پھر یہ کے ایک طلاق دے کر بیوی کو عددت مکمل کروایں ۔ پھر دوبارہ نکاح کریں۔ مجھے دونوں مشکل لگ رہے ہیں_ کیا کوئی کفارہ سے اس پریشانی سے نکلا جا سکتا یے ؟ میری رہنمائی کریں ۔ جذاک اللہ خیر۔

جواب

Fatwa : 49-23/B=01/1442

 آپ نے غصہ میں آکر جو اپنی بیوی سے یہ کہہ دیا ”اگر تم نے اپنی بہن سے رشتہ رکھا یا بات کی تو تمہیں تین طلاق“ یہ یمین یعنی قسم ہوگئی، قسم موٴید یعنی ہمیشہ کے لئے ہوتی ہے، اس کا لوٹانا جائز نہیں۔ یعنی آپ کی بیوی جب کبھی اپنی بہن سے بات کرے گی تو اس پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ اس سے بچنے کا حل فقہاء کرام نے یہ لکھا ہے کہ آپ اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی صریح الفاظ میں دیدیں جب اس کی عدت پوری ہو جائے تو آپ کی بیوی اپنی بہن کے یہاں جاکر بات کرلے تو یہ یمین (قسم) پوری ہو جائے گی۔ اس کے بعد جدید نکاح کرکے آپ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رکھ سکتے ہیں، حلالہ کی ضرورت نہ ہوگی۔ اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں، نہ کوئی کفارہ ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :600014
تاریخ اجراء :02-Oct-2020

فتوی پرنٹ