1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عقائد و ایمانیات
  3. اسلامی عقائد

میراسوال یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ بیماری اورصحت اللہ تعالی کی طرف سے آتی ہے تو کیا بیماریاں ایک بندہ سے دوسروں کو لگتی ہے جیسے فلو (بخار) یا کوئی بھی وائرل انفیکشن؟ میں نے ایک حدیث میں پڑھا ہے کہ اگر کسی علاقے میں طاعون

سوال

میراسوال یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ بیماری اورصحت اللہ تعالی کی طرف سے آتی ہے تو کیا بیماریاں ایک بندہ سے دوسروں کو لگتی ہے جیسے فلو (بخار) یا کوئی بھی وائرل انفیکشن؟ میں نے ایک حدیث میں پڑھا ہے کہ اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے کوئی باہر نہ آئے اور کوئی اس جگہ نہ جائے ۔ بیشک اللہ تعالی کے ہر کام میں مصلحت ہے ۔ براہ کرم، اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔ 

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1147/ ب= 1077/ ب
 
حدیث شریف میں آیا ہے لا عدْویٰ ولاَ طِیَرَةَ في الإسلام یعنی اسلام میں چھوت چھات نہیں ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جائے نہ ہی اسلام میں بدفالی جائز ہے۔ یہی عقیدہ ہرمسلمان کا ہونا چاہیے۔ احتیاطاً اگر کوئی کوڑھی سے یاخارش والے سے بچے تو اس کی گنجائش ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :1870
تاریخ اجراء :میراسوال یہ ہے کہ

PDF ڈاؤن لوڈ