1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عقائد و ایمانیات
  3. اسلامی عقائد

اگر نیکیاں زیادہ ہوں اور گناہ کم یا اس کے بر عکس ہو تو جزا وسزا کا کیا حکم ہوگا؟

سوال

(۱) جس شخص کی نیکیاں زیادہ ہوئیں ، کیس اسے گناہوں کی سزا ملے گی یا سیدھا جنت میں جائے گا؟
(۲) جس کے گناہ زیادہ ہوئے ، اسے نیکیوں کی جزا ملے گی ؟ مسلمان کو عذاب کیونکر ہوگا کیونکہ اس کے پاس جو کلمہ ہے وہ تو ہر شے سے بھاری ہے ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:699-611/N=8/1440
اگر کسی کے پاس کچھ نیکیاں ہوں اور کچھ گناہ اورنیکیاں گناہ سے زیادہ ہوں اور دنیا میں اس کے گناہوں کی معافی ہوگئی یعنی: اس شخص نے دنیا ہی میں اللہ تعالی سے گناہ معاف کرالیے یا اللہ تعالی نے نیکیوں کی وجہ سے یا محض اپنے فضل وکرم سے معاف فرمادیے تو وہ آخرت میں سیدھا جنت میں جائے گا۔ اور اگر دنیا میں اس کے گناہ معاف نہیں ہوئے تو اس کا معاملہ اللہ کی مرضی پر ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالی گناہ معاف فرماکر سیدھا جنت میں پہنچادیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ گناہوں کی سزا بھگت کر جنت میں جائے۔
(۲): جی ہاں! اگر کسی مسلمان کے پاس گناہ زیادہ ہوں اور نیکیاں کم اور دنیا میں اس کی وہ نیکیاں ضائع نہیں ہوئیں تو آخرت میں اسے اس کی نیکیوں کابدلہ ضرور ملے گا، یعنی: گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد اللہ تعالی اس ایمان والے کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔
(۳): کلمہ یقیناً بہت بھاری اور باوزن ہے ؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کلمہ گو کو گناہوں سے کوئی نقصان نہیں ہوتا؛ بلکہ گناہوں کی وجہ سے آدمی کے کلمہ کی طاقت کمزور ہوتی ہے، یعنی: ایمان ویقین میں کمی آتی ہے جیسا کہ اعمال صالحہ اور تقوی سے ایمان ویقین قوی اور مضبوط ہوتا ہے؛ اس لیے اگر کوئی ایمان والا بندہ گناہ کرے گا تو اس کا ایمان کمزور ہوگا اور وہ اس کے مطابق آخرت میں سزا یاب بھی ہوگا الا یہ کہ اللہ تعالی فضل فرمائیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169689
تاریخ اجراء :Apr 18, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ