1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. ربوٰ وسود/انشورنس

نئی گاڑی خریدنی ہے۔۔۔کیش خریدنے کی صورت میں انکم ٹیکس ادارے کی جانب سے پریشان کرنے کا اندیشہ ہے جبکہ فائننس کا مروجہ طریقہ سودی معاملہ پر مبنی ہونے کی بنائ پر ناجائز ہونے کا کیا حل ہے؟

سوال

مفتی صاحب۔۔
نئی گاڑی خریدنی ہے۔۔۔کیش خریدنے کی صورت میں انکم ٹیکس ادارے کی جانب سے پریشان کرنے کا اندیشہ ہے جبکہ فائننس کا مروجہ طریقہ سودی معاملہ پر مبنی ہونے کی بنائ پر ناجائز ہے۔۔۔۔
اب۔۔۔اس کا کوئی حل ہے یا نہیں۔۔۔۔؟۔؟

جواب

Ref. No. 41/0000

الجواب وباللہ التوفیق:

بسم اللہ الرحن الرحیم:۔ بینک کے ذریعہ گاڑی خریدنے کی ایک صورت یہ ہے کہ بینک گاڑی کی قیمت مع منافع ایک ساتھ طے کردے اور پھر گاڑی خرید کراپنے گراہک کو  بیچ دے۔ اگر قسط مقرر کرے تو گراہک وقت  مقررہ پر قسط اداکرتا رہے تاکہ تاخیر کی وجہ سے کوئی سود نہ دینا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ علاوہ ازیں اس زمانہ میں ضرورت کے پیش نظر بینک سے لون پر گاڑی خریدنے کی   بھی  گنجائش ہے۔  

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1793
تاریخ اجراء :Oct 23, 2019

فتوی پرنٹ