1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. نماز / جمعہ و عیدین

کیا یہ ضروری ہے کہ ایک قرآن تراویح کی نماز میں پورا ختم کیا جائے؟ اگرہاں تو پھر کیا یہ صحابہ کے دور سے ثابت ہے؟ ثابت ہے تو اس بارے میں کوئی حدیث؟ کیاصحابہ بھی آج کل کے قاری لوگوں کی طرح فل اسپیڈ میں پڑھتے تھے، آج کل

سوال

کیا یہ ضروری ہے کہ ایک قرآن  تراویح کی نماز میں پورا ختم کیا جائے؟  اگرہاں تو پھر کیا یہ صحابہ کے دور سے ثابت ہے؟  ثابت ہے تو اس بارے میں کوئی حدیث؟  کیاصحابہ بھی آج کل کے قاری لوگوں کی طرح فل اسپیڈ میں پڑھتے تھے، آج کل کے قاری قرآن ختم کرنے کے فراق میں اتنی رفتار سے پڑھتے ہیں کہ سال بھر جو لوگ  نماز نہیں پڑھتے تراویح میں تو آتے ہیں  قرآن سننے کی نیت سے وہ بھی اتنی رفتار سے پڑھاجاتا ہے۔ اور خود قاری کی اتنی غلطیاں اور بھول ہوجاتی ہے۔ مقتدیوں کو بھی تو قرآن ے الفاظ سمجھ میں آنے چاہئے۔ تفصیل سے جواب دیں۔

جواب

Ref. No. 40/1081

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قرآن پاک مکمل تراویح میں سننا سنت ہے ضروری نہیں ہے۔  اگر اس کے لئے اچھے قاری ملیں تو اس سنت پر عمل کرنا چاہئے۔ جن جگہوں پر حافظ نہ ملیں یا اچھے پڑھنے والے نہ ہوں وہاں اچھے پڑھنے والے امام سے الم تر کیف سے تراویح پڑھ لینی چاہئے۔  اتنا تیز پڑھنا، کہ الفاظ مکمل طور پر ادا نہ ہوتے ہوں یا پیچھے کھڑے حافظ و عالم کو بھی سمجھ میں نہ آتاہو،  درست نہیں ہے بلکہ نماز کے فاسد ہونے کا بھی خطرہ ہے۔ غلطیاں اور بھول ہوجایا کرتی ہیں ، اس کے لئے  ایک سامع بھی رکھنا چاہئے۔  اور اگر حافظ صاحب سے غلطیاں اور بھول بکثرت صادر ہوتی ہوں ، لوگوں کو دشواری  ہو اور تقلیل جماعت کا اندیشہ ہو تو کسی دوسرے حافظ صاحب کا انتظام کرلیا جائے اور وہ بھی نہ ہوسکے تو پھرالم ترکیف سے تراویح پڑھ لی جائے۔

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1663
تاریخ اجراء :May 5, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ