1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. طلاق و تفریق

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں ایک مسئلہ میں اپنی زوجہ کو طلاق دینا چاہا اور مقامی اسٹامپ فروش کے پاس جاکر طلاق لکھنے کو کہا، اسٹامپ فروش نے کچھ یوں لکھا کہ میں اپنی زوجہ کو اپنے بندھن سے آزد کر

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں   ایک مسئلہ میں اپنی زوجہ کو طلاق دینا چاہا اور مقامی اسٹامپ فروش کے پاس جاکر طلاق لکھنے کو کہا، اسٹامپ فروش نے کچھ یوں لکھا کہ میں اپنی زوجہ کو  اپنے بندھن  سے آزد کرتے ہوئے طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں جبکہ میں نے یہ الفاظ زبانی نہیں کہے اور نہ ہی  میں سہ بارے کے بارے میں واقف  تھا. میں نے کہیں سنا تھا کی تین دینے سے ایک طلاق واقع ہو تی ہے ، ميرا کا ارادہ صرف ایک طلاق دینا تھا، میں نے سمجھا ایک طلاق واقع کرنے کیلئے تین دفعہ لفظ طلاق لکھنا پڑتا ہے، چنانچہ میں نے دستخط کر دیا اور بذریعہ ڈاک بھیج دیا،  

یہ جو کچھ مین نے لکھا ہے اللہ کو حاظر وناظر جان کر حلفیہ لکھا ہے.

لہٰذا بتلایا جائے کہ کیا میرے لئے زوجہ مذکورہ کو لوٹانے کی گنجائش ہے-


محمد ظفر

جواب

Ref. No. 40/1029

الجواب وباللہ التوفیق:

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ احکام شرعیہ سے ناواقفیت قابل قبول عذر نہیں ہے؟ لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں۔ اب واپسی کی کوئی شکل نہیں ہے۔ عورت عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

 

 دارالافتائ

دارالعلوم وقف دیوبند

 


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1624
تاریخ اجراء :Mar 27, 2019

فتوی پرنٹ