1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. طلاق و تفریق

کیا فرما تے ہیں علماے کرام مفتیان دین درج ذیل مسلہ میں ایک شخص جس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی ہے اس نے اپنے بیوی کو فون پر یہ کہا کے آج کے بعد اگر میرے پاس فون کرو گی تو تم کو تین طلاق ہے تو کیا طلاق سے بچنے کے لئے کوئی صورت

سوال

کیا فرما تے ہیں علماے کرام مفتیان دین درج ذیل مسلہ میں ایک شخص جس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی ہے اس نے اپنے بیوی کو فون پر یہ کہا کے آج کے بعد اگر میرے پاس فون کرو گی تو تم کو تین طلاق ہے تو کیا طلاق سے بچنے کے لئے کوئی صورت ہے کیا طلاق رجعی سے کوئی حل نکل سکتا ہے یا اور کوئی حل ہو سکتا ہے ؟

جواب

Ref. No. 40/1147

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  مذکورہ مسئلہ میں تین طلاق سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ مرد اپنی زوجہ کو ایک طلاق دے کر اس سے الگ رہے، رجعت نہ کرے، عدت پوری گزرجانے دے،  عدت گذرجانے کے بعدوہ عورت اس سے فون پر بات کرلے تو اس طرح تعلیق ختم ہوجائے گی۔ پھر عورت سے نکاح جدید کرلے۔ فحیلۃ من علق الثلاث بدخول الدار ان یطلقھا واحدۃ ثم بعد المدۃ تدخلھا فتنحل الیمین  فینکحھا۔ (شامی ج4ص609)

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1734
تاریخ اجراء :Jul 29, 2019

فتوی پرنٹ