1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. ربوٰ وسود/انشورنس

اسلام علیکم ہمارے ایک بھائی ہیں جن کی چھ بیٹیاں ہیں ایک لڑکا ہے وہاں بھی نابالیغ ہے اور دو لڑکیاں جوان ہیں اخراجات بہت زیادہ ہیں کاروبار کی طرف سے بہت حالات کمزور ہیں ضروریات اور بچیوں کی شادیوں کا کوئی پختہ انتظام نہیں ہے

سوال

السلام علیکم ہمارے ایک بھائی ہیں جن کی چھ بیٹیاں ہیں ایک لڑکا ہے وہ بھی نابالغ ہے اور دو لڑکیاں جوان ہیں اخراجات بہت زیادہ ہیں کاروبار کی طرف سے بہت حالات کمزور ہیں ضروریات اور بچیوں کی شادیوں کا کوئی پختہ انتظام نہیں ہے گھر کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہ سوچا ہے کہ گھر پر ہوم لون لے لیا جائے اور اس کی رقم سے ایک ہمارا پلاٹ ہے اسکو بنا لیا جائے اور اس کو کرائے پر چھوڑ دیا جائے گا اور اس سے جو کرایہ ملے گا اس سے ہم بینک کی قسطیں ادا کرتے رہیں گے اس بارے میں آپ ہماری رہنمائی فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی
خادم محمدعارف درجہ بلند شہر اتر پردیش

جواب

Ref. No. 40/805

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔سودی بنیاد پر لون لینا حرام ہے، اس سے اجتناب لازم ہے اور اس کے علاوہ کوئی اورجائز طریقہ اختیار کریں جس میں کوئی شبہ نہ ہو۔   

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1411
تاریخ اجراء :Oct 3, 2018,

فتوی پرنٹ