1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. زکوۃ / صدقہ و فطرہ

میرے ایک ساتھی نے اپنی زکوۃ کو سال پورا ہونے سے تقریبا 6 مہینہ پہلے شعبان 2018 میں ہی اس وقت کی سیونگ / مال کے حساب سے نکال کر ادا کردی۔ اب مال میں سال پورا ہوا محرم میں تو کیا اگر سیونگ میں یعنی مال میں اضافہ ہوا تو اضا

سوال

میرے ایک ساتھی نے اپنی زکوۃ کو سال پورا ہونے سے  تقریبا 6 مہینہ پہلے شعبان 2018 میں ہی  اس وقت کی سیونگ / مال کے حساب سے نکال کر ادا کردی۔ اب مال میں سال پورا ہوا محرم میں تو کیا اگر سیونگ میں یعنی مال میں اضافہ ہوا تو اضافہ شدہ مال کی زکوۃ نکالنی ہوگی۔  اور اگر گھٹ جائے تو پہلے دئے ہوئے میں سے جو زائد ہو اس کو واپس لے سکتا ہے؟ یا اگلے سال کی زکوۃ کی  ادائیگی میں اتنی رقم کم دے سکتے ہیں

جواب

Ref. No. 40/801

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ آئندہ سالوں کی زکوۃ پیشگی دینا جائز  اور درست ہے۔ لیکن جس دن سال پورا ہوگا اسی دن کا اعتبار ہوگا۔ لہذا  اس دن سے پہلے جو کچھ  مال میں اضافہ ہوا اس کی زکوۃ  نکالنی ہوگی۔ اور اگر مال کم ہوجائے تو زکوۃ  کی رقم اگر الگ کرکے رکھی ہوئی ہے  تو اس میں سے  واپس  لے سکتا ہے اور اگر آئندہ سال کی زکوۃ میں اس کو پیشگی ادا کرنا چاہتا ہے تو ایسا بھی کر سکتا ہے؟

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1403
تاریخ اجراء :Oct 1, 2018,

فتوی پرنٹ