1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. ربوٰ وسود/انشورنس

کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل کے بارے میں میرے والدین نے انجانے میں بیمہ کرایا تھا جس میں ہمیں ایک لاکھ روپے سود ملیگا اب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ بیمہ کرانا نا جائز اور حرام ہے ......اور ہم بیمہ کی قیمت سے زیادہ مقروض ہ

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل کے بارے میں

میرے والدین نے انجانے میں بیمہ کرایا تھا جس میں ہمیں ایک لاکھ روپے سود ملیگا اب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ بیمہ کرانا نا جائز اور حرام ہے ......اور ہم بیمہ کی قیمت سے زیادہ مقروض ہیں .......تو آپ سے درخواست ہیکہ آپ ہمیں ایسا راستا بتا دیجئے کہ ہم اسے اپنا قرض ادا کر سکے یا کہیں اور استعمال کر سکے...

جواب

Ref. No. 39/1168

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  بیمہ کرانا ناجائز تھا لیکن  اب اس رقم کو بیمہ کمپنی سے نکال لینا اور کسی غریب  اور مستحق کو بلا نیت ثواب صدقہ کردینا لازم ہے ۔  اگر آپ خود صاحب نصاب نہیں ہیں ،مقروض  بھی ہیں اوربیمہ کی رقم سے قرض کی ادائیگی چاہتے ہیں تو ایسا کرنے کی گنجائش ہے۔  اور اگر قرض کی ادائیگی کے بعد بچ جائے تو آپ اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں، یا کسی اور مستحق کو بلا نیت ثواب صدقہ کردیں۔

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1390
تاریخ اجراء :Sep 18, 2018,

فتوی پرنٹ