1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. ربوٰ وسود/انشورنس

۔ حضرت۔۔۔ میرا سوال یہ ہےکہ ہمیں جو اون لین ٹرانجیکشن( ONLINE TRANSACTION) کرنے پر کمپنی کے جانب جو زائد روپیے ملتے ہیں تو ان روپیوں کا شرعا کیا حکم ہے وہ پیسے جائز ہے یا نہیں ؟؟۔ مثال کے طور پر جب ہم "پے ٹی ایم&quo

سوال

۔
حضرت۔۔۔
میرا سوال یہ ہےکہ ہمیں جو اون لین ٹرانجیکشن( ONLINE TRANSACTION) کرنے پر کمپنی کے جانب جو زائد روپیے ملتے ہیں تو ان روپیوں کا شرعا کیا حکم ہے وہ پیسے جائز ہے یا نہیں ؟؟۔

مثال کے طور پر جب ہم  "پے ٹی ایم"(PAYTM) استعمال کرتے ہیں تو اس میں یہ اوفر آتا ہے کہ آپ 20 مرتبہ یا پھر 10مرتبہ ایک متعینہ روپے کو ٹرانسفر کیجئے تو آپ کو 20 روپیہ زائد ملینگے تو حضرت اب ان 20روپیوں کا کیا حکم ہے؟؟ ۔۔

مزید اس پر یہ کہ ہر چیز کمپنی کے جانب سے متعین ہوتی ہے مثلا روپے،ٹرانسفر کتنے مرتبہ کرنا ہے،  وقت، وغیرہ ہر کچھ ۔۔۔)
(حضرت بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ  (کمپنی کے جانب سے ملنے والے)زائد  پیسے جائز نہیں ہے یہ ایک طرح سے سود ہے جو کہ حرام ہے)
حضرت برائے مہربانی مدلل و تشفی بخش جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔۔
شکریہ ۔۔فقط والسلام ۔۔۔

جواب

Ref. no. 40/967

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ یہ رقم کمپنی کی طرف سے بطور انعام دی جاتی ہے اس لئے  یہ درست ہے، اس طرح  کے آفر اپنی کمپنی کے تعارف کو عام کرنے کے لئے دئے جاتے ہیں ، اس کو سود نہیں  کہا جاسکتا ۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1563
تاریخ اجراء :Jan 27, 2019

فتوی پرنٹ