1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. متفرقات

موٴکل کیا چیز ہے؟ (۲) کیا کوئی چیز موٴکل کے بارے میں قرآن و حدیث میں ہے؟ (۳) کیا عامل (مولانا) حضرات سے علاج کرنا جائز ہے؟ (۴) عامل (مولانا) حضرات جن یا موٴکل کی مدد سے علاج کرواتے ہیں کیا ان سے علاج کروانا شرک ہے؟ (۵) کیا

سوال

موٴکل کیا چیز ہے؟ (۲) کیا کوئی چیز موٴکل کے بارے میں قرآن و حدیث میں ہے؟ (۳) کیا عامل (مولانا) حضرات سے علاج کرنا جائز ہے؟ (۴) عامل (مولانا) حضرات جن یا موٴکل کی مدد سے علاج کرواتے ہیں کیا ان سے علاج کروانا شرک ہے؟ (۵) کیا یہ شرک (جادو) نہیں ہے (جو عامل حضرات کرتے ہیں)؟ مفتیان کرام سے گذارش ہے کہ ان چیزوں کو خلاصہ کریں۔

جواب

Ref. No. 40/1124

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  واللہ الموفق:(۱) بعض لوگ اپنے مخصوص اعمال کے ذریعہ جن کو اپنے قابو میں کرلیتے ہیں پھر وہ علاج وغیرہ میں ان سے مدد لیتے ہیں ایسے جنات کو وہ اپنا مؤکل کہتے ہیں (۲) جن کا موجود ہونا اور اس کا جسم انسانی میں حلول کرنا اور اس کے ذریعہ سے اپنا اثر ڈالنے کا ثبوت قرآن کریم سے ہے (۳)جو عامل حضرات آیات کریمہ، اذکار،یا دیگر مباح چیزوں کے ذریعہ علاج کرتے ہیں ان سے علاج کرانا درست ہے اور تعویذ کے ذریعہ علاج کرانے کا ثبوت بھی احادیث سے ہے (۴)عامل حضرات جو مؤکل سے علاج کراتے ہیں وہ اگر امور مباحہ سے متعلق ہو تو درست ہے لیکن جنات سے غیب کی خبر معلوم کرنادرست نہیں ہے (۵) اگر عامل حضرات غیر اللہ سے مدد لے کر علاج کرتے ہیں یا غیر اللہ کو کسی چیز میں مؤثر سمجھتے ہیں تو یہ شرک ہے لیکن اگر قرآن و حدیث کے علاوہ غیر معلوم الفاظ سے علاج کرتے ہیں تو یہ ناجائز ہے لیکن اس کو شرک نہیں کہا جائے گا۔لاباس بالمعاذات اذا کتب فیہا القرآن و اسماء اللہ تعالی (شامی ۶/۳۶۳)عن عوف بن مالک الاشجعی قال کنا نرقی فی الجاہلیۃ قلنا یا رسول اللہ کیف تری ذلک فقال لا بأس فی الرقی ما لم تکن شرکا (سنن ابی داؤد ۲/۲۴۵)

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1534
تاریخ اجراء :Jan 4, 2019

فتوی پرنٹ