1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. نماز / جمعہ و عیدین

کیا نماز کے درمیان موبائل کال آنے پر کال کٹ کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ اور کس طریقہ سے بند کرنا ہے؟ بعض لوگ ایک ہاتھ سے موبائل نکال کر جیب سے پھر کٹ کردیتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ میں نے علماء سے سنا کہ اس سے نماز نہیں ہوتی۔ ا

سوال

کیا نماز کے درمیان موبائل  کال آنے پر  کال کٹ کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ اور کس طریقہ سے بند کرنا ہے؟ بعض لوگ ایک ہاتھ سے موبائل نکال کر جیب سے پھر کٹ کردیتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ میں نے علماء سے سنا کہ اس سے نماز نہیں ہوتی۔ اور کچھ علماء اس کی اجازت  دیتےہیں۔

جواب

Ref. No. 39/1078

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   موبائل کی گھنٹی سے دوسرے نمازیوں کو خلل ہوتا ہے اس لئے نماز سے پہلے ہی اس کا دھیان رکھنا چاہئے اور موبائل کو سائلنٹ پر رکھ دینا چاہئے۔ لیکن اگر بند کرنا بھول گیا اور نماز میں گھنٹی بجی تو  ایک ہاتھ سے بٹن دباکر بند کردینا چاہئے، اور اگر ایک ہاتھ کو جیب میں ڈالا اور نکال کربند کردیا تو بھی نماز ہوجائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ  ہے، اور زیادہ دیر لگنے سے نماز کے فاسد ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ اس لئے ایسا کرنے سے بچنا چاہئے۔ اوراگر دونوں ہاتھ لگادیا یا  کوئی اور عمل کثیر کردیا تو نماز ٹوٹ جائے گی اور دوبارہ بڑھنی ہوگی۔   

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1203
تاریخ اجراء :Apr 25, 2018,

PDF ڈاؤن لوڈ