1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. ربوٰ وسود/انشورنس

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اپنی گاڑی یا دکان وغیرہ کا انشورنس کیسا ہے؟ اسی طرح ایل آئ سی جیون بیما کرانا کیسا ہے؟

سوال

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ اپنی گاڑی یا دکان وغیرہ کا انشورنس کیسا ہے؟
اسی طرح ایل آئ سی جیون بیما کرانا کیسا ہے؟

جواب

Ref. No. 39/1112

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔انشورنس  کا معاملہ مکمل سود ی معاملہ ہے، اور سودی معاملہ کرنا حرام ہے۔ البتہ شریعت میں ضرورت کے مواقع میں گنجائش دی گئی ہے۔ اس لئے جن چیزوں کے استعمال کے لئے انشورنس کرانا لازم ہو اور قانونی مجبوری ہو تو ایسی صورت میں انشورنس کرانے کی گنجائش ہے۔ اور اگر قانونی مجبوری نہ ہو تو پھر انشورنس کرانا جائز نہیں ہے۔ جیون بیمہ قانونی طور پر لازم نہیں اس لئے حرام ہوگا۔ دوکان کا بیمہ بھی اسی طرح ہے کہ اگر قانونی مجبوری کے تحت کرایا جائے تو ہی جائز ہوگا ورنہ نہیں۔   

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1311
تاریخ اجراء :Jul 29, 2018,

فتوی پرنٹ