1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. ربوٰ وسود/انشورنس

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بینک میں جو انٹرسٹ (سود) کی رقم بڑھتی ہے اسکو اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں کہ نہیں؟ وضاحت کے ساتھ بیان فرمائیں

سوال

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بینک میں جو انٹرسٹ (سود) کی رقم بڑھتی ہے اسکو اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں کہ نہیں؟
 وضاحت کے ساتھ بیان فرمائیں

جواب

Ref. No. 39/1113

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔بینک سے  جو سودی رقم آپ کو ملے اس کو بلانیت ثواب غریبوں اور مستحقین پر صدقہ کرنا واجب ہے۔  اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ آپ خود غریب ومستحق ہوں تو آپ اس کو اپنے استعمال میں بھی لاسکتے ہیں۔  

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1310
تاریخ اجراء :Jul 29, 2018,

فتوی پرنٹ