1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. احکام میت / وراثت و وصیت

ہمارا کوئ بچہ نہیں تھا تو میری بیوی نے میرے بھائی کے بچے کو گودلیا تھا اور مرنے سےپلےس اس نے وصیت کی تھی کے میرا جو مرل ہے اس سے میرے اس بچے کی بیوی کو زیور بناکر دیدینا۔ بیوی کے مرنے کے بعد بھائی نے اپنا بچہ واپس لے لیا

سوال

ہمارا کوئ بچہ  نہیں تھا تو میری بیوی نے میرے بھائی کے بچے کو گودلیا تھا اور مرنے سےپلےس اس نے وصیت کی تھی کے میرا جو مرل ہے اس سے میرے اس بچے کی بیوی کو زیور بناکر دیدینا۔ بیوی کے مرنے کے بعد بھائی نے اپنا بچہ واپس لے لیا اب میرے لئے مہرکی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

جواب

Ref. No. 39 / 0000

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                

بسم اللہ الرحمن الرحیم:  مہر کا مال عورت کی ملک ہے۔مرنے والے کی وصیت اس کے تہائی مال میں جاری ہوتی ہے۔ لہذا  اس عورت کے مرنے کے بعداس کے ایک  تہائی مال سے اس  گود لئے بچے کی بیوی کو زیور بناکر دیدیاجائے  اور بقیہ دو تہائی  مال وارثوں کے درمیان بطور میراث تقسیم کرلیا جائے۔ میراث کی تقسیم کے لئے وارثین کی تفصیلات لکھ کر بھیجیں تواسکا جواب لکھاجائے گا۔   واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1207
تاریخ اجراء :Apr 30, 2018,

فتوی پرنٹ