1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. نماز / جمعہ و عیدین

نماز کے بعد اجتماعی وانفرادی دعاکی کیا حیثیت ہے؟ اس کو بلند آواز سے کرنا درست ہے یا نہیں؟ کچھ لوگ اس کو بدعت کہتے ہیں، کیا ان کا کہنا درست ہے؟ اگر نہیں تو حدیث میں کیا ہے اس کے متعلق جواب تفصیل سے عنایت فرمائیں

سوال

Ref. No. 38 / 1125

نماز کے بعد اجتماعی وانفرادی دعاکی کیا حیثیت ہے؟ اس کو بلند آواز سے  کرنا درست ہے یا نہیں؟ کچھ لوگ اس کو بدعت کہتے ہیں، کیا ان کا کہنا درست ہے؟ اگر نہیں تو حدیث میں کیا ہے اس کے متعلق جواب تفصیل سے عنایت فرمائیں

جواب

Ref. No. 38 / 1114

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   الجواب وباللہ التوفیق: (1) فرض نمازوں کے بعد دعاء کا قبول ہونا اسی طرح انفرادی واجتماعی دونوں طرح دعا کرنا ثابت ہے۔  حضرت معاذ بن جبل  سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت معاذ سے ارشاد فرمایا  کہ تم کسی بھی نماز کے بعد اس دعاء"اللہم انی اعنی علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک " کو نہ چھوڑو۔(احمد، ابوداؤد)۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ نماز کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلاکر (حدیث میں مذکور) دعاء کرتا ہے تو اللہ پر یہ حق ہے کہ اس کے دونوں ہاتھوں کو ناکام اور خالی واپس نہ کرے (عمل الیوم واللیلۃ)۔ حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو سلام پھیرکر یہ دعاء کرتے "اللہم انی سئلک علما نافعا ورزقا طیبا وعملا متقبلا (احمد ، ابن ماجہ)۔ اسود عامری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی، جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ مُڑ گئے اور آپ نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور دعاء فرمائی(امداد الفتاوی)۔ ان تمام احادیث سے نماز کے بعد دعاء کرنا ثابت ہوا، اب ظاہر ہے جب آپ ﷺ نماز کے بعد دعاء میں مشغول ہوں تو کیا جانثار صحابہ نے دعاء میں شرکت نہیں کی ہوگی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپﷺ دعاء کریں اور صحابہ یوں ہی خاموش بیٹھے رہے ہوں اور اس سعادت سے محروم ہوجائیں، بلکہ یقیناً صحابہ نے موافقت کی ہوگی۔ نیز حدیث میں ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ اٹھاکر دعاء فرمائی تو موجود صحابہ نے بھی آپﷺ کے ساتھ ہاتھ اٹھاکر دعاءمیں شرکت فرمائی (بخاری شریف)۔                       البتہ دعاؤں میں اخفاء افضل ہے اس لئے اجتماعی دعاء  بلند آواز سے کرنے کا التزام نہ کیاجائے۔  نماز کے بعد آپﷺ سے بے شمار دعائیں منقول ہیں جو احادیث کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔  (2) جو درود خلاف شرع نہ ہو اور صلاۃ وسلام کے الفاظ پر مشتمل ہو تو اس کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم سب سے افضل درود ابراہیمی پڑھنا ہے۔ اور نبی علیہ السلام نے نماز جیسی اہم عبادت کے لئے اسی درود کا انتخاب فرمایا ہے۔ اور آپ ﷺ کے زمانے میں صحابہ سے یہ دعاء پڑھنا بھی ثابت ہے، اس لئے بہتر ہے درود ابراہیمی پڑھے۔ درود پڑھنے کے لئے اجتماع کرنا ثابت نہیں ہے،درود بلندآواز سے بھی پڑھ سکتے ہیں البتہ آہستہ پڑھنا بہتر ہے جیسا کہ دیگر دعاؤں کا حکم ہے۔  واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :882
تاریخ اجراء :May 2, 2017,

PDF ڈاؤن لوڈ