1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. زکوۃ / صدقہ و فطرہ

ہمارے شہر میں ایک اسکول ہے جہاں قرآن بھی پڑھایا جاتا ہے اور عصری تعلیم بھی ہوتی ہے۔ اس میں اساتذہ کی تنخواہیں اور کرایہ وغیرہ کے اخراجات فیس سے پورے نہیں ہوتے ہیں۔ ہم کسی غریب مستحق کو زکوة کے پیسے دیکر ترغیب دیتے ہیں کہ ا

سوال

Ref. No. 38 / 1237

ہمارے شہر میں ایک اسکول ہے جہاں قرآن بھی پڑھایا جاتا ہے اور عصری تعلیم بھی ہوتی ہے۔ اس میں اساتذہ کی تنخواہیں اور کرایہ وغیرہ کے اخراجات فیس سے پورے نہیں ہوتے ہیں۔ ہم کسی غریب مستحق کو زکوة کے پیسے دیکر ترغیب دیتے ہیں کہ اس اسکول کے اخراجات میں ہمیں یہ رقم دیدے۔ کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟ واضح رہے کہ ہمارے اس اسکول میں غریب مستحق لوگوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کر رہے۔

جواب

Ref. No. 38 / 1150

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                

بسم اللہ الرحمن الرحیم: بشرط صحت سوال مذکورہ صورت اختیار کرنا درست ہے تاہم مستحق زکوۃ کو زکوۃ کی رقم دے کر مکمل بااختیار بنادینا ضروری ہے، صرف زبانی حیلہ کارگر نہیں ہوگا۔ پھر اگر ترغیب دے کر اس سے کچھ یا پوری رقم حاصل  ہوجائے تو اس کو تنخواہوں  میں یا تعمیرات وغیرہ میں استعمال کرنا درست ہوگا۔  تاہم یہ صورت اسی وقت درست ہے جب مذکورہ ادارہ میں اصل دینی تعلیم ہو اور عصری تعلیم تابع اور ذیلی طور پر ہو۔

 واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :860
تاریخ اجراء :Apr 6, 2017,

فتوی پرنٹ