1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. احکام میت / وراثت و وصیت

بڑے بیٹے نے باهر سے کماکر اپنے والد کو پیسہ بهیجا. والد نے اسی پیسے سے زمین لے کر ایک نیا مکان بنوایا. مکان کی تعمیر میں والدین یا بهائی بہنوں کا کوئی پیسہ یا زمین شامل نہیں هے. کیا صرف اس وجہ سے کہ والد نے اپنی زیرنگرانی

سوال

Ref. No. 38 / 1083

بڑے بیٹے نے باهر سے کماکر اپنے والد کو پیسہ بهیجا. والد نے اسی پیسے سے زمین لے کر ایک نیا مکان بنوایا. مکان کی تعمیر میں والدین یا بهائی بہنوں کا کوئی پیسہ یا زمین شامل نہیں هے. کیا صرف اس وجہ سے کہ والد نے اپنی زیرنگرانی گهر بنوایا تها، اس مکان میں بھائی بہنوں کا کوئی قانونی یا شرعی حق هوگا؟

جواب

Ref. No. 38 / 1072 

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم: مذکورہ مسئلہ کی دوصورتیں ہیں: (1) بیٹا کماکر باپ کو دیتا  ہے اور صراحۃ ً یا عرفاً باپ کو مالک بناتا ہے۔ (2) کماکر باپ کو دیتا ہے اور باپ کو مالک نہیں بناتا ہے۔ ؛ پہلی صورت میں وہ مال باپ کی ملکیت ہے اور اس میں وراثت جاری ہوگی، اور دوسری صورت میں وہ خود بیٹے کی ملکیت ہے۔ (مشکوۃ شریف، ہدایہ)۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :856
تاریخ اجراء :Apr 2, 2017,

فتوی پرنٹ