1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. متفرقات

برما کے حالات سے پوری دنیا باخبر ہےجہاں بیوی بچے بہن مائیں محفوظ نہیں ہیں جہاں مسلمان اپنی جان اور اپنی بہن ودیگر عورتوں کا یقینا خطرہ محسوس کرتے ہیں، اب میرا سوال ہے کہ کیا ایسی حالت میں خود زہر پی کر اوراپنے پور

سوال

Ref. No. 38 / 1233
بعد سلام مسنون
برما کے حالات سے پوری دنیا باخبر ہےجہاں  بیوی  بچے  بہن  مائیں محفوظ  نہیں ہیں جہاں مسلمان اپنی جان اور اپنی بہن ودیگر عورتوں کا  یقینا خطرہ محسوس کرتے ہیں، اب میرا سوال ہے کہ کیا ایسی حالت میں خود زہر پی  کر  اوراپنے  پورے اہل وعیال کو پلاکر موت  کو گلے لگایا جاسکتا ہے؟ جبکہ یقین ہو کہ بہن کی یا عورتوں کی عزت لوٹی جاسکتی ہے اور میں کچھ نہیں کرسکتا۔ ؟؟؟

جواب

Ref. No. 38 / 1213 

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ یقینا ایسی حالت کا پیدا ہوجانا ایک مسلمان کے لئے بڑی آزمائش کی گھڑی ہے اور اپنی عزت وآبرو کی حفاظت کرنا بھی ایک اہم فرض ہے  اور جس قدر ہوسکے بھرپور اپنا بچاؤ اور دفاع کرنا لازم ہے، اگر دفاع کرتے ہوئے یا ظلماً  کوئی  مسلمان قتل کیا گیا تو  اس کو شہادت کا درجہ نصیب ہوگا۔البتہ خود کوقتل کرنا اور زہر وغیرہ پی کر خود کشی کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اللہ تعالی ایسی نازک گھڑی میں ہم سب کا معاون ومددگار ہو اور استقامت کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔  واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :974
تاریخ اجراء :Sep 19, 2017,

فتوی پرنٹ