1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. مساجد و مدارس

۱ مسجد کے نیچے تہخانہ میں اہل و عیال کے ہمراہ رہنا صحیح ہے ۲ کیا مسجد کے اپر لڑکی کا مدرسہ بنانا صحیح ہے ۳ کیا جوان لڑکیوں کو مرد معلم پڑھا سکتاہے ہے مسجد میں ۴ کیا معلمہ اپنے ذاتی کام جیسے برتن دھونا کپڑے دھونا وغیرہ کا

سوال

Ref. No. 1016

۱ مسجد کے نیچے تہخانہ میں اہل و عیال کے ہمراہ رہنا صحیح ہے ۲ کیا مسجد کے اپر لڑکی کا مدرسہ بنانا صحیح ہے ۳ کیا جوان لڑکیوں کو مرد معلم پڑھا سکتاہے ہے مسجد میں ۴ کیا معلمہ  اپنے ذاتی کام جیسے برتن دھونا کپڑے  دھونا وغیرہ کام اپنے بالغ لڑکے کے موجودگی میں لے سکتی ہے اور بلا موجودگی کا بھی بتا دیں ۵ کیا ایسے مدرسہ میں بچی کو رکھنا صحیح ہے جہاں مہتمم کے لڑکے بھی نیچے رہتے ہوں اور اپر بچیاں جب کے لڑکوں کا اپر انا جانا بھی ہو اور مذید لڑکا بدنام بھی ہو حرام کاری کے لئے ۶ کیا ایسے مدرسہ میں چندہ دینے سے ثواب میلےگا جسکا ذکر اپر کیا گیا ہے

جواب

Ref No. 1010

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم: (١) اگر تہ خانہ مسجد کے طور پر نہیں بنایا گیا بلکہ مصالح مسجد کیلئے ہے تو اس میں رہائش کی گنجائش ہے۔ (٢) مسجد کے اوپر چھوٹے بچے بچیوں کی تعلیم درست ہے  مگر بالغ بچیوں کا ہاسٹل بنانا درست نہیں  ہے۔ (٣) مسجد کے اوپری حصہ میں پردہ کے ساتھ مرد معلم تعلیم دے سکتا ہے۔ (٤) معلمہ کو اپنا کام خود کرنا چاہئے؛ طالبات سے گھر کا ذاتی کام لینا پسندیدہ نہیں ہے اور بالغ لڑکوں  سے پردہ لازم ہے  معلمہ کو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے؛ کبھی وقت ضرورت معلمہ اگر کام لے لیں تو کوئی حرج نہیں مگر پردہ لازمی طور پر کرائیں۔ (٥) اگر کسی ادارہ کی صورت حال ایسی ہو کہ وہاں منکرات کو نظرانداز کیا جاتا ہو  تو اس میں اپنی بچیوں کو نہیں بھیجنا چاہئے  جب تک بچیوں کے لئے کسی دوسری محفوظ اور مناسب جگہ کا نظم نہ ہوجائے۔ (٦) چندہ دینا درست ہے، ثواب ان شاء اللہ مرتب ہوگا،  البتہ جو خامیاں اور منکرات ہیں ان کی اصلاح ضروری ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :631
تاریخ اجراء :Mar 18, 2016,

PDF ڈاؤن لوڈ