1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. فقہ

جانور کو ذبح خانہ میں ذبح کرنے سے پہلے کرنٹ کا شوک لگایا جاتا ہے جس سے وہ ادھمرہ ہو جاتا ہے پھر اس کو ذبح کر دیا جاتا ہے کیا ایسا کرنا درست ہے اور کیا اس طرح ذبح کرنے کی کمائ جاءز ہے یا نہیں

سوال

Ref. No. 38/837

جانور کو ذبح خانہ میں ذبح کرنے سے پہلے کرنٹ کا شوک لگایا جاتا ہے جس سے وہ ادھمرہ ہو جاتا ہے پھر اس کو ذبح کر دیا جاتا ہے کیا ایسا کرنا درست ہے اور کیا اس طرح ذبح کرنے کی کمائ جاءز ہے یا نہیں

جواب

Ref. No. 38/828

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                                                                                        

بسم اللہ الرحمن الرحیم: اس طرح ذبح کرنے سے گریز کرنا چاہئے تاہم اگر کرنٹ لگنے سے اس کی موت واقع نہ ہو تو اس کو ذبح کردینے سے جانور حلال ہوجائے گا۔ البتہ اس میں کوشش ہو کہ جانور کو تکلیف کم سے کم ہو۔ پھر کرنٹ لگنے پر اگر کوئی جانور مرگیا اور اس کی جان نکل چکی ہے تو اب چھری پھیردینے سے وہ حلال نہ ہوگا۔ حلت وحرمت کا معاملہ ہے اس لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :765
تاریخ اجراء :Oct 27, 2016,

فتوی پرنٹ