1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. حج و عمرہ

اگر کسی نے شوال یا ذی القعدہ میں عمرہ کیا تو کیااس پر حج کی ادائیگی فرض ہوگئی خواہ وہ پہلے حج ادا کرچکا ہو ؟ اگر کوئی شخص شوال ، ذی القعدہ میں عمرہ کرکے گھرچلاگیا پھر حج کے ایام میں حج کررہا ہے تو یہ حج تمتع ہوگا یا افرا

سوال

اگر کسی  نے شوال یا ذی القعدہ میں عمرہ کیا تو کیااس پر حج کی ادائیگی فرض ہوگئی خواہ وہ پہلے حج ادا کرچکا ہو ؟ اگر کوئی شخص شوال ، ذی القعدہ میں عمرہ کرکے  گھرچلاگیا پھر حج کے ایام میں حج کررہا ہے تو یہ حج تمتع ہوگا یا افراد؟  جزاک اللہ

جواب

 

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                           

بسم اللہ الرحمن الرحیم-: شوال وذی قعدہ اشہر حج میں سے ہیں، لیکن ان مہینوں میں عمرہ کرنے یا مکہ چلے جانے سے حج فرض نہیں ہوجا تا بلکہ جب تک وہ صاحب استطاعت نہیں ہوگا اس پر حج فرض نہیں ہوگا،علاوہ ازیں حج زندگی میں صرف ایک بار ہی فرض ہوتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی اشہر حج میں عمرہ کرکے گھر چلاگیااورپھر حج کے ایام میں حج کررہا ہے توپہلے عمرہ کا اس حج سے کوئی  تعلق نہیں ہوگا،  حج تمتع کےلیے  ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج اداکرنا  ضروری  ہے۔   واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :415
تاریخ اجراء :Aug 8, 2015,

فتوی پرنٹ