1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. طلاق و تفریق

میں اور میری بیوی پاکستانی ہیں، ہماری شادی 2007 میں ہوئی ، اس وقت میں یوکے میں تعلیم حاصل کررہا تھا، شادی کے بعد بیوی کو لیجانے کا انتظام بھی کیا، لیکن اس دوران یوکے جانے کی بے صبری میں میری بیوی لڑائی کرکے اپنے گھر چلی

سوال

Ref. No. 854

میں اور میری بیوی پاکستانی ہیں، ہماری شادی 2007 میں ہوئی ، اس وقت میں  یوکے میں تعلیم حاصل کررہا تھا، شادی کے بعد بیوی کو لیجانے کا انتظام بھی کیا، لیکن اس دوران یوکے جانے کی بے صبری میں میری بیوی لڑائی  کرکے اپنے گھر چلی گیہ  اور پھر میرے لگائے ہوئے ویزا پر یوکے میں اپنی بہنوں کے پاس چلی گیا۔ اس دوران صلح کی کوشش کی گیر لیکن بات نہیں بنی۔ میری تعلیم مکمل ہوئی اور میں پاکستان واپس آگیا، لیکن میری بیوی یوکے میں اپنی بہنوں کے پاس ہی رہی۔ پھر اس نے شرعی کونسل میں جھوٹے الزام لگاکر وہاں سے فسخ نکاح کا سرٹیفکیٹ لے لیا۔ شرعی کونسل کو فون کرکے ساری صورت حال بیان کی گیا، جس پہ اس بندے نے کہا کہ اب کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ اور پھر انھوں نے میری بیوی کو سند دیدی ، اب اپنا ای میل دیں تو میں تفصیل بھیجوں۔

جواب

Ref. No. 849 Alif

 

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                           

بسم اللہ الرحمن الرحیم-:  مذکورہ فیصلہ شرعی دارالقضاء سے ہوا ہے، اور شرعی دارالقضاء کے فیصلہ پر دارالقضاء ہی سے نظرثانی کی جاسکتی ہے۔ اس لئے اسی دارالقضاء میں اپیل کریں یا کسی دوسرے دارالقضاء سے رجوع کیا جائے۔ واللہ تعالی اعلم 

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :524
تاریخ اجراء :Dec 2, 2015,

فتوی پرنٹ