1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. ربوٰ وسود/انشورنس

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام: ہمارے یہاں ایک شخص ہے جو اپنے اور اپنے بچوں کا لائف انشورنس کرایا ہوا ہے، جس کا اہتمام غیروں میں کیا جاتا ہے، کہ جب آدمی مرجاتاہے تو انشورنس کمپنی کی طرف سے پیسہ ملتا ہے۔ کیا اسلام اس کام کی

سوال

Ref. No. 1019

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام: ہمارے یہاں ایک شخص ہے  جو اپنے اور اپنے بچوں کا لائف انشورنس کرایا ہوا ہے، جس کا اہتمام غیروں میں کیا جاتا ہے، کہ جب آدمی مرجاتاہے  تو انشورنس کمپنی کی طرف سے پیسہ ملتا ہے۔  کیا اسلام اس کام کی اجازت دیتاہے؟  میں نے سنا ہے کہ یہ کام حرام ہے؟ براۓ کرم جواب سے نوازیں ۔ محمد عرفان ویلور ٹما نارو

جواب

Ref. No. 1089 Alif

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔  لائف انشورنس کرانا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی مجبوری میں کرایا گیا ہے توصرف  اپنی جمع کردہ رقم  لے سکتے ہیں ،اس کے علاوہ جو رقم کمپنی دے اس کو بلانیت ثواب صدقہ کردینا لازم ہے۔  واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :271
تاریخ اجراء :Mar 15, 2015,

فتوی پرنٹ