1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. فقہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلے میں کہ اگر خالد کسی مدرسے کا سفیر ہے تو کیا اسے اس پیسوں میں سے دیا جا سکتا ہے( جیسا کہ آج کل سفرا حضرات ان پیسوں میں اپنا حق سمجھتے ہوئے پیسے لیا کرتے ہیں اور انہیں دیا بهی

سوال

Ref. No. 1032

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلے میں کہ اگر خالد کسی مدرسے کا سفیر ہے تو کیا اسے اس پیسوں میں سے دیا جا سکتا ہے( جیسا کہ آج کل سفرا حضرات ان پیسوں میں اپنا حق سمجھتے ہوئے پیسے لیا کرتے ہیں اور انہیں دیا بهی جاتا ہے  )اگر ہاں تو کیوں؟ نہیں تو کیوں نہیں؟اگر دیا جا سکتا ہو تو کیا اسکے کچھ حصے بھی متعیّن ہونگے؟ازراہ کرم مسلےپ کا تشفّی بخش جواب دیا جائے۔شیخ شہزاد

جواب

Ref. No. 1101 Alif

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔  سفیر جو چندہ کرے ، پہلے مکمل ذمہ دار کے پاس جمع کردے، وہ اس سفیر کو بطور انعام کچھ دے اور سفیر لے تو گنجائش ہے، مگرصدقات واجبہ کی رقوم میں قبل از حیلہ تملیک تصرف درست نہیں ہے۔ کذا فی کتب الفتاوی۔ واللہ تعالی اعلم

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :263
تاریخ اجراء :Mar 9, 2015,

فتوی پرنٹ