1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. مساجد و مدارس

کیا فرماتے ہیں مفتیاں کرام کہ جو مسجدوںمیں متولی ہیں سود کا پیسہ لےکر بیت الخلاء کی تعمیر میں استعمال کرتے ہیں اور رمضان میں چاول اور کھانے کی چیزوں میں استعمال کرتے ہیں ، تو کیا استعمال کرنا درست ہے اس طرح؟ جواب با صوا

سوال

Ref. No. 1009

کیا فرماتے ہیں مفتیاں کرام کہ جو مسجدوں میں  متولی ہیں سود کا پیسہ لےکر بیت الخلاء کی تعمیر میں استعمال کرتے ہیں اور رمضان میں چاول اور کھانے  کی چیزوں میں استعمال کرتے ہیں ، تو کیا استعمال کرنا درست ہے اس طرح؟  جواب با صواب سے نوازیں ۔ فقط والسلام آصف وحید تمل ناڈو

جواب

Ref. No. 1080 Alif

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔  سود کی رقم  مال حرام ہے،اور مال حرام کو بلاتملیک فقراء،مسجد کی تعمیر میں لگانا یا رمضان میں کھانے کی چیزوں میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ مسجد کے بیت الخلاء کی تعمیرمیں بھی استعمال کرنا درست نہیں  ہے۔  سود کی رقم کسی غریب کو بلا نیت ثواب دیدینا لازم ہے۔  اما اذا کان عند رجل مال خبیث فاما ان ملکہ بعقد فاسد او حصل لہ بغیر عقد ولایمکنہ ان یردہ الی مالکہ ویرید ان یدفع مظلمتہ عن نفسہ فلیس لہ حیلة الا ان یدفعہ الی الفقراء۔ ﴿بذل المجھود﴾ واللہ اعلم بالصواب

 

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :256
تاریخ اجراء :Mar 4, 2015,

PDF ڈاؤن لوڈ