1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. طہارت / وضو و غسل

بخاری شریف جلد دو باب تیرہ حدیث چار میں حضرت ابو سعید خذری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ مسلمان پر غسل کرنا واجب ہے۔ وضاحت فرمائیے کہ کیا غسل کرنا واجب ہے؟ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ سنت یا مستحب ہے۔؟

سوال

Ref. No. 985

بخاری شریف  جلد دو باب تیرہ حدیث چار میں حضرت ابو سعید خذری سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ مسلمان پر غسل کرنا واجب  ہے۔ وضاحت فرمائیے کہ کیا غسل کرنا واجب ہے؟ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ سنت یا مستحب ہے۔؟

جواب

Ref. No. 1061 Alif

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم: عام حالات میں جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے۔ ہاں اگر کسی شخص کو حدث اکبر لاحق ہو تواس پر غسل فرض  ہوگا۔  ایک حدیث میں ہے ۔ ،من توضا یوم الجمعة فبھا ونعمت ومن اغتسل فالغسل افضل یعنی جس نے جمعہ کے دن وضو کیا اس نے ٹھیک کیا اور جس نے غسل کیا  تو اس نے افضل کام کیا۔ رہا سوال میں مذکور حدیث کا جواب، تو اس  کے متعلق اسی جگہ حاشیہ میں اس کی تفصیل درج ہے، وہ یہ ہے۔ قال النووی المراد بالوجوب وجوب اختیار کقول الرجل لصاحبہ حقک واجب علی قالہ علی القاری وقال محمد فی موطاہ اخبرنا محمد بن ابان بن صالح عن حماد عن ابراہیم النخعی قال ای حماد سالتہ عن الغسل یوم الجمعة والغسل من الحجامة والغسل فی العیدین قال ان اغتسلت فحسن وان ترکت فلیس علیک فقلت لہ الم یقل رسول اللہ ﷺ من راح الی الجمعة فلیغتسل قال بلی ولکن لیس من الامور الواجبة وانما ھو کقولہ تعالی واشھدوا اذا تبایعتم الحدیث ویویدہ مااخرج ابوداود عن عکرمة ان ناسا من اھل العراق جاووا فقالوا یا ابن عباس اتری الغسل یوم الجمعة واجبا فقال لاولکنہ طھور وخیر لمن اغتسل ومن لم یغتسل فلیس علیہ بواجب۔

 واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :248
تاریخ اجراء :Mar 1, 2015,

فتوی پرنٹ