1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. مساجد و مدارس

ایک شخص نے ۲۲ لاکھ میں ایک زمین بیچی، بات طے ہوگی ،مشتری نے پیسے اداکردئے، جب لکھوانے کا نمبر آیا تو اس نے کہا کہ اب میں ۲۵ لاکھ میں دوں گا مجھے کسی جگہ سے ۲۵ لاکھ مل رہے ہیں۔پنچایت ہوئی جس میں ساڑھے چوبیس لاکھ پر معاملہ

سوال

Ref. No. 981

ایک شخص نے ۲۲ لاکھ میں ایک زمین بیچی، بات طے ہوگی   ،مشتری نے پیسے اداکردئے، جب لکھوانے کا نمبر آیا تو اس نے کہا کہ اب میں ۲۵ لاکھ میں دوں گا مجھے کسی جگہ سے ۲۵ لاکھ مل رہے ہیں۔پنچایت ہوئی جس میں ساڑھے چوبیس لاکھ پر معاملہ طے ہوا۔ سوال یہ ہے کہ اس بائع کا مزید ڈھائی لاکھ لینا کیسا ہے؟
یہ پیسے ملنے کے بعد اس شخص نے مسجد میں چٹائی وغیرہ میں پچاس ہزار خرچ کے  ۔ ایسا کرنا کیسا ہے اورکیا اس کا خرچ کرنا درست ہے؟

جواب

Ref. No. 1059 Alif

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔بائع اور مشتری کے درمیان جب بات طے ہوگئی تھی تو اب بائع کا زیادہ کا مطالبہ کرنا سراسرظلم ہے۔ اور زائد رقم ظلما لی گئی رقم ہے جو ناجائز ہے۔  

رہا اس کا مسجد میں چٹائی  وغیرہ میں خرچ کرنا تو چونکہ اس کی ملکیت میں جائز رقم بھی ہے اس لئے بلا تعیین صرف کردینا درست ہوا۔ اور اگر اس کی نیت اسی زائد آمدنی سے پچاس ہزار دینے کی تھی تو اس نے سخت گناہ کا کام کیا ہے اس پر توبہ و استغفار لازم ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :233
تاریخ اجراء :Feb 24, 2015,

PDF ڈاؤن لوڈ