1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. نکاح و شادی

السلام علیکم ۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا شادی کسی دوسری برادری (خان، انصاری یا کوئی اور برادری ہو) میں کرنا کیسا ہے؟ حدیث و قرآن کی روشنی میں بتائیں؟ ۔

سوال

Ref. No. 915

السلام علیکم  ۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا شادی کسی دوسری برادری (خان، انصاری یا کوئی اور برادری ہو) میں کرنا کیسا ہے؟ حدیث و قرآن کی روشنی میں بتائیں؟ ۔

جواب

Ref. No. 1001 Alif

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ذات برادری اور خاندان کا لحاظ اس لئے کیا جاتا ہے کہ میاں بیوی کےآپسی رہن سہن  اور مزاج میں  یکسانیت ہو تاکہ  دونوں ایک  خوشگوار زندگی گزارسکیں۔ ذات برادری  میں تقسیم ،تفاخر اور دوسرے کو نیچا سمجھنے کے لئے نہیں بلکہ  تعارف کے لئے  ہے کہ اگر ایک نام کے دوشخص ہیں تو خاندان کے فرق سے امتیاز ہوجائے؛  والدین کو جوڑا تلاش کرتے وقت دینداری کا خیال کرنا چاہئے نہ کہ محض ذات پات کا۔ اسلئے اگر لڑکے یا لڑکی کا باپ دوسری برادری میں شادی  کرادے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ دینداری چھوڑ کر ذات پات میں لگ جانا مزاج شریعت کے خلاف ہے، اور محض جاہلانہ باتیں ہیں۔ قرآن  کریم میں ارشاد ہے، يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔ (الحجرات13)۔ اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو،  اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہی ہے جوسب سے زیادہ پرہیزگار ہو، اللہ تعالی خوب جاننے والا پورا خبردار ہے۔حدیث شریف میں ہے : تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَلِجَمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ (متفق علیہ) ۔ عورت سے چار وجہوں سے نکاح کیا جاتا ہے: مال، حسب نسب، حسن و جمال، یا دین کی وجہ سے۔ تم دیندار عورت کا انتخاب کرو۔(بخاری) اسی طرح نبی ﷺ نے نیک عورت کو دنیا کی سب سےبہتر متاع قرار دیا ہے۔(مسلم) ۔ 

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :192
تاریخ اجراء :Jan 13, 2015,

فتوی پرنٹ