1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. زکوۃ / صدقہ و فطرہ

میرے پاس زکوة کی رقم ہے۔ کچھ غریب ہیں ان کو پورے سال پیسے تھوڑے تھوڑے دینے پڑتے ہیں، اگر ایک ساتھ ان کو دیدیں تو جلد خرچ کردیتے ہیں۔ تو کیا ایک ساتھ پوری رقم ان کو دینا ضروری ہے یا میں ان کو تھوڑا تھوڑا کرکےبھی دے سکتاہوں؟

سوال

Ref. No. 1174

میرے پاس زکوة کی رقم ہے۔ کچھ غریب ہیں ان کو پورے سال پیسے تھوڑے تھوڑے دینے پڑتے ہیں، اگر ایک ساتھ ان کو دیدیں تو جلد خرچ کردیتے ہیں۔ تو کیا ایک ساتھ پوری رقم ان کو دینا ضروری ہے یا میں ان کو تھوڑا تھوڑا کرکےبھی دے سکتاہوں؟
۲۔ ایک آدمی ہے وہ اپنی فیملی کا خرچ ہر ماہ کی تنخواہ سے چلا لیتا ہے لیکن اس کے پاس اکٹھے اتنی رقم نہیں ہے کہ وہ کوئی کام کرسکے، ابھی اس کی بیوی کا آپریشن ہے تو کیامیں زکوة کی رقم اس کی بیوی کی آپریشن کے لیے دے سکتا ہوں میری زکوة ادا ہوگی؟ جزاک اللہ، سلمان، ساوتھ افریقہ

جواب

Ref. No. 1240 Alif

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                           

بسم اللہ الرحمن الرحیم-:۱۔ زکوة کی رقم پوری ایک ساتھ کسی کو دینا ضروری نہیں بلکہ حسب موقع و ضرورت تھوڑا تھوڑا دینا بھی درست ہے ۔

 ۲۔ اگر اس شخص کی ملکیت میں بقدرنصاب مال نہیں ہے تو اس کو زکوة کی رقم دے سکتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :372
تاریخ اجراء :Jul 7, 2015,

فتوی پرنٹ