1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. زکوۃ / صدقہ و فطرہ

1۔ایک شخص کے پاس کچھ سونا کچھ چاندی اور کچھ نقد رقم ہے، کیا اس پر زکوة واجب ہے؟ 2. ایک شخص نے ایک لاکھ روپے لگائے جس میں اس کو بیس ہزار کا فائدہ ہوا تو کیا اس پر منافع کی بھی زکوة دینی ہوگی جبکہ منافع پر ایک سال نہیں گذرا

سوال

Ref. No. 1175

1۔ایک شخص کے پاس کچھ سونا کچھ چاندی اور کچھ نقد رقم ہے، کیا اس پر زکوة واجب ہے؟
2. ایک شخص نے ایک لاکھ روپے  لگائے جس میں اس کو بیس ہزار کا فائدہ ہوا تو کیا اس پر منافع کی بھی زکوة دینی ہوگی جبکہ منافع پر ایک سال نہیں گذرا ہے؟

جواب

 Ref. No. 1241Alif

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                           

بسم اللہ الرحمن الرحیم-:۱۔ اگرکسی  کے پاس  نہ سونے کا پورا نصاب ہو اور نہ چاندی کا تو ایسی صورت میں سونے کو بازار سے معلوم کرلیا جائے کہ کتنی چاندی کی قیمت کا ہےپھر اتنی رقم  اور چاندی کی رقم کو نقد کے ساتھ ملاکر مجموعہ کا چالیسواں حصہ حسب قواعد شرع زکوة میں اداکردیا جائے۔حاصل یہ ہے تمام زیورات کی مالیت نکال کر اس کی زکوة ادا کی جائے ۔  ۲۔ صاحب نصاب پر جب سال گزرجائے تو اس کی ملکیت میں جو کچھ  سال کے آخری دن  ہوگا اس پر زکوة واجب ہوگی؛ یاد رکھیے ہر مال پر سال کا گزرنا شرط نہیں ہے؛ لہذا اصل مال اور منافع دونوں کی زکوة اداکرنا واجب ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :370
تاریخ اجراء :Jul 7, 2015,

فتوی پرنٹ