1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. نماز / جمعہ و عیدین

اگرکسی شخص کو امامت کیلئے لوگ آگے کرے تو جس شخص کو امام بنایا ہے وہ حافظ نہ ہو تو وہ امام نماز کی نیت کس طرح کریگا کیا اس کومقتدیو کی بھی نیت کرنی ہوگی ؟

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
استاد محترم اگرکسی شخص کو امامت کیلئے لوگ آگے کرے تو جس شخص کو امام بنایا ہے وہ حافظ نہ ہو تو وہ امام نماز کی نیت کس طرح کریگا کیا اس کومقتدیو کی بھی  نیت کرنی ہوگی ؟ اور اگر کسی امام سے غلطی ہوجائے مطلب کے سری(ظہر کی نماز)پڑھا رہا ہو اب اس وہ امام قرات بلند آواز سے سے شروع کرے 2، 3آیات پڑھ بھی لے پھر اس کو یاد آئے پھر وہ سری آواز سے شروع کرے اب اس امام کو سجدہ سہو کرنا پڑھے گا یہ نہیں؟ رہنمائی فرمائیں

جواب

Ref. No. 41/925

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ امام  عارضی ہو یا مستقل نماز شروع کرنے سے قبل  ہرامام کو چاہئے کہ لوگوں کی  امامت کی نیت کرے، لیکن امامت کی نیت کے بغیر نماز درست ہوجاتی ہے، البتہ اقتداء کے لئے نیت شرط ہے۔ اگر امام  غلطی سے سری نماز میں جہر کردے یا جہری نماز میں سری قراءت کردے تو اس پر سجدہ سہو لازم ہے۔   وجہر (ای الامام وجوبا ) بقراءۃالفجر واولیی العشائین (کنزالدقائق ص27)

 واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1875
تاریخ اجراء :Dec 28, 2019,

فتوی پرنٹ