1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. اسلامی عقائد

السلام علیکم۔۔۔کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک مسلمان عورت کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی۔پھر وہ مرتد ہو گئی۔اس کے بعد اس نے کافر مرد سے شادی کی۔اس کے بعد وہ عورت پھر سے مسلمان ہوگئی۔۔۔تو کیا یہ زوج اول کے لیے

سوال

السلام علیکم۔۔۔کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک مسلمان عورت کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی۔پھر وہ مرتد ہو گئی۔اس کے بعد اس نے کافر مرد سے شادی کی۔اس کے بعد وہ عورت پھر سے مسلمان ہوگئی۔۔۔تو کیا یہ زوج اول کے لیے حلال ہو گی؟

جواب

Ref. No. 41/891

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  اگر ایک طلاق یا دو طلاق تھی کہ عورت زوج اول کے لئے حلال  ہے، زوج اول سے نکاح کرسکتی ہے۔ اور اگر زوج اول نے تین طلاق دیا ہے تو مذکورہ صورت میں حلال نہیں  ہوگی، بلکہ مسلمان ہونے کے بعد اس کا دوسرا نکاح صحیح طور پر کسی مسلمان مرد سے کرنا ہوگا۔  بعد نکاح  صحیح و دخول اگر زوج ثانی نے طلاق دے دیا تو عدت کے بعد عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوگی۔

لا بملک یمین لاشتراط الزوج بالنص فلایحل وطئ المولی ولاملک امۃ بعد طلقتین او حرۃ بعد ثلاث وردۃ وسبی نظیرہ من فرق بینھما بظہار او لعان ثم ارتدت وسبیت ثم ملکھا لم تحل لہ ابدا فوجہ الشبہ بین المسئلتین ان الردۃ واللحاق لم تبطل حکم الظہار واللعان کما لاتبطل الطلاق۔ (الدر المختار43/5)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1822
تاریخ اجراء :Nov 27, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ