1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. نماز / جمعہ و عیدین

مسجد میں ایک وقت میں ایک ہی نماز ہوسکتی ہے دو نماز جائز نہیں ہے۔ جیسے ہم مسجد میں داخل ہوئے ہم نے دیکھا کہ نماز ہوچکی ہے اب ہم سفر کی نسبت ہونے کی وجہ سے اپنی جماعت الگ کرتے ہیں۔ پر ہم دیکھتے ہیں کہ مسجد حرم مکہ میں اور مد

سوال

مسجد میں ایک وقت میں ایک ہی نماز ہوسکتی ہے دو نماز جائز نہیں ہے۔ جیسے ہم مسجد میں داخل ہوئے ہم نے دیکھا کہ نماز ہوچکی ہے اب ہم سفر کی نسبت ہونے کی وجہ سے اپنی جماعت الگ کرتے ہیں۔ پر ہم دیکھتے ہیں کہ مسجد حرم مکہ میں اور مدینہ میں دونوں  میں کتنی نماز ایک ساتھ ہورہی ہوتی ہے۔ کوئی اس کونے میں دو چار لوگوں کی جماعت کرارہا ہے اور کوئی دوسرے کونے میں دوتین لوگوں کی جماعت کرا رہا ہے۔ اور کتنی ایسی بھی جنکا ہمیں اندازہ نہیں۔ ایکوقت میں آٹھ دس فرض نماز ہورہی ہوتی ہے یا اس سے بھی زیادہ ممکن ہے۔ تو اس کا کیا حکم ہے؟ میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔ صادق صابر

جواب

Ref. No. 41/873

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جماعت کی اہمیت کی وجہ سے احناف کے نزدیک ایک مسجد میں ایک ہی جماعت افضل ہے، جبکہ دیگر ائمہ  کرام کے نزدیک متعدد جماعتیں ہوسکتی ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :1807
تاریخ اجراء :Nov 5, 2019

فتوی پرنٹ