1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. حدیث و سنت

کیا یہ حدیث ہے؟ اگر ہےتوحوالہ بتاکر رہنمائی فرمائیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ مبارک سے آنسو جاری ہوگئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا،یا رسول اللہ یہ

سوال

کیا یہ حدیث ہے؟ اگر ہےتوحوالہ بتاکر رہنمائی فرمائیں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ مبارک سے آنسو جاری ہوگئے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا،یا رسول اللہ یہ تو غیر مسلم کا جنازہ ہے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت سے تو ہے اور جنت کی بجائے جہنم میں جا رہا ہے۔

جواب

Ref. No. 1560/43-1081

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔نبی علیہ السلام کے سامنے سے جنازہ گزرا اور آپ کھڑے ہوگئے، صحابہ نے عرض کیا کہ یہ یہودی/کافر کا جنازہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ  کیا وہ ایک  ذی روح  نہیں ہے /موت یقینا ایک  گھبراہٹ  کی  چیز ہے۔ یعنی جنازہ کو دیکھ کر آدمی کے اندر ایک خوف اور گھبراہٹ پیدا ہونی چاہئے۔ آپ نے اس سے زائد جو باتیں سوال میں ذکر کی ہیں اس کے بارے میں کوئی روایت ہم کو نہیں ملی۔

عن أبي سلمة، عن أبي هريرة. أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مرت به جنازة يهودي فقام. فقيل له: يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إنها جنازة يهودي، فقال: "إن للموت فزعًا".  مسند احمد، شاکر، صحیفۃ ھمام بن منبہ 8/340)

قَالَ أَبُو يَعْلَى: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْجَعْدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرَّتْ بِهِمَا جِنَازَةٌ، فَقَامَا فَقِيلَ لَهُمَا: إِنَّمَا هُوَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَقَالَا: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ، فَقِيلَ: إِنَّهَا جَنَازَةُ كَافِرٍ، فَقَالَ: «أَلَيْسَتْ نَفْسًا؟». قَالَ أَبُو يَعْلَى: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْجَعْدِ، عَنْ شُعْبَةَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ عَلَامَةُ السَّمَاعِ فَشَكَكْتُ فِيهِ (مسند ابی یعلی الموصلی، 47-مسند قیس بن سعد، 3/26)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :3772
تاریخ اجراء :Aug 25, 2021

فتوی پرنٹ