1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. سیاست

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا جس طرح مسلم حکمرانوں کو برا بھلا کہنا منع ہے کیا غیر مسلم حکمرانوں کو بھی برا بھلا کہنا منع ہے یا ان کے برے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر لعن طعن کر سکتے ہیں

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا جس طرح مسلم حکمرانوں کو برا بھلا کہنا منع ہے کیا غیر مسلم حکمرانوں کو بھی برا بھلا کہنا منع ہے یا ان کے برے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر لعن طعن کر سکتے ہیں

جواب

Ref. No. 1553/43-1084

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شریعت میں کسی کو بھی برا بھلا کہنا منع ہےاور اس میں مسلم و غیرمسلم سب برابر ہیں۔ اور لعن و طعن سے بھی کسی کو بھی فائدہ نہیں  ہوتاہے۔البتہ  جس کے کرتوت غلط ہوں اس کو سمجھانا چاہئے اور  اس کے کاموں کو برا کہنا بھی جائز ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :3741
تاریخ اجراء :Aug 18, 2021

فتوی پرنٹ