1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. حدیث و سنت

347462 مقامی مرکز میں تبلیغ کی اہمیت بیان کرتے ہوئےایک بزرگ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحٰمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ منورہ کے لوگوں کی ضیافت کی۔حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر مبارک سے نکلے تو انہوں

سوال

347462 مقامی مرکز میں تبلیغ کی اہمیت بیان کرتے ہوئےایک بزرگ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحٰمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ منورہ کے لوگوں کی ضیافت کی۔حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر مبارک سے نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد نبوی میں سر جھکا کر بیٹھا ہوا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ آپ ضیافت پر کیوں نہیں گئے؟ تو انہوں نے عرض کیا: کہ میں اس فکر میں بیٹھا ہوں کہ کیسے پوری دنیا کے انسان دوزخ سے بچ کر جنت میں جانے والے بن جائیں۔اس پرحضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبدالرحٰمن بن عوف ساری زندگی لوگوں کی ضیافت کرتا رہے، تو بھی تمہارے ثواب کو نہیں پہنچ سکتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسی حدیث موجود ہے۔ اگر موجود ہے تو برائے مہربانی حوالہ لکھ دیں، اگر نہیں ہے تو کیا لوگوں کی ترغیب کے لئے ایسی غیر موجودحدیث بیان کرنا جائز ہے یا نہیں۔?؟ ن

جواب

Ref. No. 1495/43-1048

الجواب وباللہ التوفیق

ذکر کردہ سوال میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا واقعہ جو نبی پاک صلی اللہ علیہ کے حوالے سے لکھا گیا ہے تتبع اور تلاش کے باوجود حدیث کی معتبر کتابوں میں حتی کہ موضوع احادیث پر لکھی ہوئی کسی کتاب میں بھی یہ مجھے نہیں مل سکا؛ اس لئے اس طرح کے من گھڑت واقعہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کرنے سے اجتناب کریں۔

 بخاری شریف کی روایت ہے: ’’من تعمد علی کذباً، فلیتبوأ مقعدہ من النار، وأیضاً: من یقل علی مالم أقل فلیتبوأ مقعدہ من النار‘‘ (أخرجہ البخاری، فی صحیحہ: ج ۱، ص: ۳۳، رقم: ۱۰۸، و ۱۰۹)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے، دوسری روایت کا مفہوم ہے جو میری طرف ایسی بات کی نسبت کرے جو میں نے نہیں کہی اس کو چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔

ان دونوں روایتوں سے یہ صاف ہو جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرنا یعنی جو بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہی ہے اس کے بارے میں کہنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، سخت گناہ ہے، اس سے بچنا ضروری ہے؛ نیز ترغیب وترہیب کی نیت ہو یا کسی اور وجہ سے اس طرح کی بے سند باتوں کو بیان کرنا جس کی کوئی اصل نہ ہو، شریعت مطہرہ میں جائز نہیں ہے، آئندہ اس کا خاص خیال رکھا جائے۔فقط

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :3601
تاریخ اجراء :Jul 6, 2021

فتوی پرنٹ