1. دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
  2. احکام میت / وراثت و وصیت

میرے دو بیٹے ہیں وہ ہمیشہ مجھ سے لڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میری زندگی میں ہی میرا حصہ دے دو۔ میں ان کو ایک روپیہ بھی دینا نہیں چاہتا۔ میں ان کو اپنی جائداد سے بے دخل کرنا چاہتاہوں۔

سوال

میرے دو بیٹے ہیں وہ ہمیشہ مجھ سے لڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میری زندگی میں ہی  میرا حصہ دے دو۔ میں ان کو ایک روپیہ بھی دینا نہیں چاہتا۔ میں ان کو اپنی جائداد سے بے دخل کرنا چاہتاہوں۔

جواب

Ref. No. 949/41-0000

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ باپ جب تک زندہ ہے اس کی جائداد میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ بیٹوں کا مطالبہ بے جا ہے۔ تاہم یہ بھی خیال رہے کہ میراث ایک شرعی حق ہے، باپ اپنے بیٹوں کو محروم کرنے کے لئے کوئی اقدام کرے گا تو گنہگار ہوگا۔ آپ اپنی زندگی میں اپنی جائداد جس کو چاہیں دے سکتے ہیں، کسی عزیز کو یا کسی مسجد و مدرسہ کو بھی دے سکتے ہیں مگر ناراضگی کی بناء پر  بیٹوں کو محروم کرنے کی نیت سے ایسا کرنا درست نہیں ہے۔  بیٹوں نے باپ کے ساتھ جو بھی زیادتی کی اس کا حساب ان  کو کل قیامت میں دینا ہوگا۔

الارث جبری لا یسقط بالاسقاط ( العقود الدریۃ 2/51) 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم (وقف) دیوبند
فتوی نمبر :2373
تاریخ اجراء :Jun 23, 2020,

فتوی پرنٹ