1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

گندم قرض دے کر بعد میں اس کی قیمت وصول کرنے کاحکم

سوال

ایک شخص نے دوسرے  کو  گندم دی کہ  چھ ماہ  بعدمیں تم سے  اتنی  گندم  واپس لونگا ،اگر میرا جی چاہے گا اور تم بھی راضی ہو  تواس وقت   گندم  کی  جو قیمت ہوگی وہ  میں تم سے لونگا ۔ کیا  اسطرح کا معاملہ کرنا شرعا   درست ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر  غیر مشروط  طورپر  گندم  قرض دی جیسے سوال میں مذکورہے،   پھر  مدت  پوری  ہونے پر   واپسی  کے دن کی  قیمت سے  مدیون کے ہاتھ فروخت کردے  تو  یہ بیع  شرعا جائز ہوگی ، اگر  مدیون کے علاوہ  کسی اور کے ہاتھ  فروخت کرنا چاہے   تو   اس کا طریقہ  یہ ہے  مدیون  سے وصول کرکے  اپنے  قبضہ میں  لیکر  آگے  فروخت کرے ،مدیون  سے وصول کئے  بغیر گندم کو  آگے  فروخت  کرنا جائز  نہیں  ہوگا ۔


حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 517)

بيع الدين إنما يجوز من المديون،

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 280)

ولا ينعقد بيع الدين من غير من عليه الدين.ويجوز من المديون لعدم الحاجة إلى التسليم،


مجيب
احسان اللہ شائق صاحب
مفتیان
آفتاب احمد صاحب
سیّد عابد شاہ صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76101
تاریخ اجراء :2014-07-08

فتوی پرنٹ