1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

شوہرنےسسرال والوں کےپولیس کی دھمکی سےدباومیں آکرطلاق نامہ پردستخظ کردیے

سوال

السلام علیکم مفتی صا حب!

 ۔میرا نام شبیر احمد ہے-میرا تعلق مانسہرہ سے ہے،مجھ سے گھروالوں نے طلاق کے اسٹام پیپر پرزبردستی 30نومبر2021کو دستخط کروائے ،مجھ پہ بہت شدید ذہنی دباو ڈالا گیا۔میرے سسرال والوں کے مظالم سےڈرایا کہ وہ تیری  جان کے دشمن  ہیں  ۔ میری کوئی مرضی نہیں تھی،میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔میں نےزبان سے طلاق کے الفاظ نہیں کہے۔۔مجھ پر بہت زور ڈالا گیا کہ دستخط کرو۔میرےپاس دستخط کے بغیرکوئی  چارہ نہیں تھا۔میں طلاق دینا نہیں چاہتاتھا۔میں نے دستخط کردیے۔میرے 3نابالغ بچے ہیں۔ معلوم  یہ کرناہےکہ کیااس صورت میں میری طلاق ہوئی؟کیا میں رجوع کر سکتا ہو ں؟ میری راہنمائی کریں؟

میرے گھر والوں کی طرف سے دباوٴ کی وجوہات یہ تھیں کہ اصل میں میرا سسرال میں سالوں سے جھگڑا ہو گیا تھا جس پر سسرالیوں نے پولیس میں میرے خلاف درخواست دی تھی، جس کے  پیش نظر میرے گھروا لوں کا مجھ پر دباؤتھا کہ تیرے سسرال والےتیری جان کے دشمن ہیں اور تیری جان لے لیں گے، تم بیو ی کوچھوڑ دو۔۔ جس پر گھروالے دباؤڈالتے رہےکہ چھوڑ دو۔ کیوں کہ پولیس نے بہت تنگ کیا ہوا تھا ۔

دوسرا یہ کہ  میری بیوی پہلے اپنے تایا کے بیٹے کی مانگیترتھی،وہاں سے منگنی ٹوٹنے کے بعد میں نے شادی کی تھی جس پر بیوی کے تایا کو بہت غصہ تھا، تایانے فون کر کے میرے ابو کو دھمکی دی کہ  میں 7 سال یا 3 سال جیل میں ڈالوں گا،اس کی وجہ سےبھی  میرے گھر والوں کامجھ پر دباؤتھا کہ لڑ کی کاتایا تجھےنقصان دے گا،بیوی کو چھوڑدواور بہت سی دھمکیاں دیں۔

 

جواب

شوہرکاسالوں سےجوجھگڑاہوا،اگرشوہرسمجھتاہےکہ اس جھگڑےکے نتیجےمیں شوہرنےبیوی کوطلاق نہ دی تواس کی جان کوواقعتاخطرہ ہےیاپھرتایاکی طرف سےجیل  میں ڈالنےکایقین یاظن غالب ہے،توپھراس طرح کی دھمکی سےاگرطلاق نامہ پردستخط کردیے،زبان سےکچھ نہ کہاتوایسی صورت میں صرف طلاق نامہ پردستخظ کرنےیاطلاق نامہ لکھنےسےطلاق واقع نہیں ہوئی،بیوی اب بھی شوہرکےنکاح میں ہے،اگردوبارہ صلح  ہوگئی ہےتودوبارہ ساتھ رہ سکتےہیں۔

لیکن اگرشوہرسمجھتاہےکہ اس کواپنےسالوں سےجان کوخطرہ نہیں تھا،بلکہ عام معمول کی   لڑائی تھی،اسی طرح تایاکی طرف سےجیل میں ڈالنےکایقین یاظن غالب نہ ہوتوپھراس لڑائی اوراس دھمکی کاشرعااعتبارنہ ہوگا،ایسی صورت میں شوہرکےطلاق نامہ پردستخظ کرنےسےطلاق واقع ہوجائےگی۔اورتین طلاق واقع ہونےکی وجہ سےدوبارہ رجوع یاموجودہ صورت میں نکاح بھی نہ ہوسکےگا۔


حوالہ جات

"رد المحتار" 10 / 458:

وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق ، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ۔

"الفتاوى الهندية " 8 / 365:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان ۔

"رد المحتار" 10 /  497:

مطلب في الطلاق بالكتابة ( قوله كتب الطلاق إلخ ) قال في الهندية : الكتابة على نوعين : مرسومة وغير مرسومة ، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب ۔

وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا ، وهو على وجهين : مستبينة وغير مستبينة ، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته ،وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته ،ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى ، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا ، وإن كانت (مستبینۃ )مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب : أما بعد فأنت طالق ، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة ۔

"بدائع الصنائع " 7 /  298:

وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة وبالإشارة المفهومة من الأخرس لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ۔


مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
سعید احمد حسن صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :75413
تاریخ اجراء :2022-01-19

فتوی پرنٹ