1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

شوہر نےکہا "میں نے دی ایک "بعدمیں بیوی کےوالدین کےمطالبےپرکہا "میں نے دی دو"  پھرتین طلاق کےطلاق نامہ پردستخظ بھی کردیےتوکیاحکم ہے

سوال

السلام علیکم !

مسئلہ یہ پوچھناہےکہ میں اقراء زاہد لاہورکی رہنےوالی ہوں،میری شادی حیدرآباد میں میرےخالہ زاد عبدالحق ولدحافظ محموداحمدسےتقریبا ڈیڑھ سال پہلےہوئی۔

میں لاہورآئی ہوئی تھی تومیرےشوہرعبدالحق نےوائس میسج کیاکہ "تم حیدرآباد آئی توطلاق دےدونگا"،لیکن میں تیسرےدن حیدرآباد چلی گئی،میرےوالدین بھی ساتھ تھے،حیدرآباد پہنچتےہی میرےشوہر کامیسج آیاکہ حیدرآباد آگئی ہوتوگھرآجاؤ،میری بات ختم ہوگئی ہے،میں نےجوتمہیں کہاتھاکہ تم حیدرآباد آئی توطلاق دےدونگا  ڈرانےکےلیےکہاتھا،گھرمیں کھاناکھانےکےبعدمیرےچچااورابونےعبدالحق سےپوچھاکہ تم نے طلاق کامیسج کیوں چھوڑا؟

اس نے کہاکہ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی،اس لیےغصہ میں میسج چھوڑدیاکہ بیگم حیدرآبادآجائےگی،اس پرمیرےچچانےکہاہماراتم پراعتمادختم ہوگیا،تم بچہ پیداکرنےوالاپرہیز ختم کردو،اس بات پرجھگڑاہوگیا،جس پرعبدالحق نےکہاکہ میں ابھی بچہ نہیں چاہتا،جھگڑامزیدبڑھ گیا،اورمیرےشوہرنےمجھ کوکہاکہ"میں بچہ نہیں دونگا،میں نےدی ایک" اس پرمیں اورمیرےوالدین سمجھےکہ ایک طلاق ہوگئی ہے،جس پرمیں نے اپنےشوہر سےکہاکہ تم نےایک دی ہے،باقی دوبھی دےدو،تو میرےچچا اورابو نےعبدالحق کوجوجارہاتھا،بلایااور کہاکہ باقی دوبھی  دو،نہیں توہم تمہیں ماریں گے،جس پرعبدالحق نےیعنی میرےشوہر نےکہاکہ"میں نےدی دو"اس  پرمیرےابو،میں اورامی اپنےچچا کےساتھ ان کےگھر چلےگئے،اس کےبعدمیری خالہ اورخالویعنی میری ساس اورسسر ایک اسٹام فروش سےاسٹامپ پیپرلےکرآگئے،جس پر میرےیعنی اقراء زاہد،محمدزاہد،محمدشاہد،عبدالحق اوراس کےدوست شیراز کےسائن لےلیے۔مفتی صاحب اب آپ شریعت کی روسےبتائیں کہ میری طلاق ہوئی کہ نہیں؟

دودن پہلےمیرےخالو عبدالستار نےعبدالحق سےبات کی جوکہ عبدالحق کےبھی خالو ہیں،عبدالحق نےکہاکہ خالوجی میں نےتوپہلی طلاق بھی نہیں دی تھی،میں نےتویہی  کہاتھا،جس پراقراء اوراس کےوالدین کولگاکہ عبدالحق نےایک طلاق دےدی پھراقراء نےاس کوکہاکہ باقی دوبھی دےدو،عبدالحق نےکہاکہ میں پریشرمیں تھا،ڈرا ہواتھا، کیونکہ اقراء کےابواور چچاکہہ رہےتھےکہ ہم تمہیں ماریں گے،جس پرمیں ڈرگیا اورکہاکہ میں نےدی (دو 2)یہ الفاظ اداہوئے،اب فیصلہ شریعت کی روسےکریں ۔میری عدت گزرنےمیں تقریبا 15دن باقی ہیں۔

تنقیح:مستفتیہ سےمعلوم ہواکہ نکاح کےبعد سےشوہر حمل کےحوالےسےپرہیز کررہاتھااورکہتاتھاکہ میں بیوی سےبچہ نہیں چاہتا،جب شوہرنےطلاق کےحوالےسےبات کی تووالدین نےیہ اطمیان کرنےکےلیےکہ کہیں بعدمیں طلاق نہ دیدے،شوہرسےکہاکہ تم نےجوپرہیزکیاہواہےاس کوختم کروتاکہ ہمیں اطمیان ہوجائےکہ طلاق نہیں دوگے۔

 

جواب

صورت مسئولہ میں شوہرنےپہلی دفعہ جو الفاظ لکھ کر بھیجےہیں یعنی " تم حیدرآباد آئی تومیں طلاق دےدونگا"اس میں چونکہ مستقبل کےالفاظ استعمال کیےگئےتھے،اس لیےبیوی کےحیدرآبادجانےسےکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ہاں اس کےبعد شوہرکی طرف سےطلاق کےالفاظ استعمال کیےگئےان کی وجہ سےطلاق واقع ہوئی ہے،جس کی تفصیل یہ ہےکہ شوہرنےلڑائی جھگڑےکےدوران بیوی کےوالدین کی طرف سےنکاح کومزیدبرقراررکھنےکےلیےحمل روکنےکی تدابیرسےباز آنےکےمطالبے پرجوالفاظ کہےہیں یعنی "میں بچہ نہیں دونگا،میں نےدی ایک" سےظاہریہی ہےکہ اس موقع پرشوہرکی نیت طلاق دینےکی تھی،لہذااس سےاس کی بیوی پرایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی،اس کےبعد والدین کی طرف سےطلاق کےمطالبہ پریہ کہا"میں نےدی دو"تودوطلاقیں مزید واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوگئی۔

اس کےبعدجب طلاق نامہ پردستخظ کروائےگئےتوطلاق نامہ میں تین طلاق کاصراحتاذکر ہےاورطلاق نامہ پردستخظ کرنےمیں شوہرکوڈراورخوف اس قدرغیرمعمولی نہیں تھاکہ اس سےشرعی  طورپرجبرواکراہ کاتحقق ہوسکے،لہذایہ طلاق نامہ بھی شرعامعتبرہوگااورپہلی والی طلاقیں واقع ہونےکی تقدیرپراس کوسابقہ دی گئی تین طلاقوں کی خبر سمجھاجائےگا،اوراگربالفرض پہلی طلاقیں واقع نہ بھی ہوتیں تواس طرح طلاق نامہ پردستخظ کرنےسےبھی تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،اس لیےمذکورہ صورت میں تین طلاق مغلظہ بہرصورت واقع ہوچکی ہیں  ،اب بغیرحلالہ کےدوبارہ بیوی سےنکاح بھی نہیں ہوسکتا۔


حوالہ جات

"الفتاوى الهندية " 8 / 136:

وفي المنتقى امرأة قالت لزوجها طلقني، فقال الزوج: قد فعلت،طلقت فإن قالت زدني فقال فعلت طلقت أيضا روى إبراهيم عن محمد - رحمه الله تعالى - قيل لرجل أطلقت امرأتك ثلاثا قال نعم واحدة قال القياس أن يقع عليها ثلاث تطليقات ولكنا نستحسن ونجعلها واحدة وفيه إذا قالت المرأة طلقني ثلاثا فقال الزوج قد أبنتك فهذا جواب وهي ثلاث كذا في المحيط ۔

"حاشية رد المحتار" 3 / 303:

ورأيت بخط السائحاني: مقتضى ما في الخانية من قوله: ولو قال لامرأته أنت بثلاث: قال ابن الفضل: إذا نوى يقع أنه هنا إذا نوى،وفيها أيضا إذا قال طالق فقيل من عنيت فقال امرأتي، طلقت، ولو قال أنت مني ثلاثا طلقت إن نوى أو كان في مذاكرة الطلاق، وإلا قالوا يخشى أن لا يصدق قضاء

وكذا نقل الرحمتي عبارة الخانية الاولى ثم قال: والظاهر أن قوله هكذا مثل قوله بثلاث ۔

أقول: أي لان كلا منهما مرتبط بلفظ طالق مقدرا، وقول الرملي: إن اللفظ لا يشعر به غير مسلم.

وما نقله عن الزيلعي لا ينافيه، لان المراد بالاسم المبهم لفظ هكذا المراد به العدد الذي أشير به إليه، وسماه مبهما لكونه لم يصرح بكميته كما حققه في النهر۔

والاسم المبهم مذكور في مسألتنا، فيفيد العلم بعد الطلاق المقدر الذي نواه المتكلم، كما أن قوله بثلاث دل على عدد طلاق مقدر نواه المتكلم، ولا فرق بينهما إلا من جهة أن العدد في أحدهما صريح وفي الآخر غير صريح، وهذا الفرق غير مؤثر بدليل أنه لا فرق بين قوله أنت طالق هكذا مشيرا إلى الاصابع الثلاث وبين قوله أنت طالق بثلاث، هذا ما ظهر لي، فافهم۔

"فتاوى قاضيخان"1/ 229:

رجل قال لامرأته ترايكي أو قال تراسه قال الصدر الشهيد رحمه الله تعالى طلقت ثثلاثاً ولو قال تويكي أو قال توسه قال أبو القالسم رحمه الله تعالى لا يقع الطلا ق قال مولانا رضي الله تعالى عنه وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل أن كان ذلك في حال مذكرة الطلاق أو في حالة الغضب يقع الطلاق وأن لم يكن لا يقع طلاق  بالبينة كما لو قال بالعربية أنت واحدة۔

"الفتاوى البزازية" 2/ 44:(نوع آخر) * قال لهاترايكي أو تراسه أوترايكي وسه قال الصفارلا يقع شيء وقال الصدر يقع بالنية وبه يفتى وقال القاضي إنكان حال المذاكرة أو الغضب يقع وإلا لا يقع بلانية كا في العربي أنت واحدة ۔


مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
آفتاب احمد صاحب
سیّد عابد شاہ صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :75483
تاریخ اجراء :2022-01-22

فتوی پرنٹ