1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

گھی مل والے یا آئل ڈپو والے تاجروں یا مڈل مین سے مال خریدنے کی صورتیں

سوال

گھی مل والے یا آئل ڈپو والے کبھی براہ راست امپوٹر  یا آئل ریفائنریز سے مال خریدتے ہیں اور کبھی بلکہ اکثر مڈل مین تاجروں سے مال خریدتے ہیں ( جو عموماً بیع قبل قبض ہوتی ہے کہ تاجر نے اپنے قبضے اور ضمان میں لئے بغیر گھی مل کو فروخت کیا ہوتا ہے ) پھر گھی مل والے اپنے پاس اس مال کو منگوا کر تیل گھی کے ڈبوں اور کاٹن کی شکل میں پیک کر کے تیار کرتےہیں ۔

ان حضرات کے پاس ایک محد ود اسٹاک موجود رہتا ہے، جیسے جیسے ان کے پاس گھی کے ڈبوں و غیرہ کا گاہک آتا ہے تووہ ان کو سودے بیچتے جاتے ہیں اور اپنے بائع( مڈل مین ) تاجروں سے  سودے خریدتے بھی جاتے ہیں ،کبھی تو وہ اپنا ہی  مال بیچتے ہیں، جتنا اسٹاک ان کے پاس موجود ہوتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ان کے پاس آئل میں مثلا 50 ٹن مال موجود ہے اور وہ اسے بیچ چکے ہیں، اب اگلا ایک گاہک  آیا تو  وہ مڈل مین تاجر سے مزید 50 ٹن مال کا سودا خریدتے ہیں تو ابھی ان کے پاس  مال پہنچا نہیں اور وہ گھی کے ڈبو ں کی شکل میں آگے فروخت کر دیتے  ہیں۔

واضح رہے کہ ان حضرات نے اتنا صنعت کاعمل تو کرنا ہوتا ہے کہ مال ڈپو میں پیک کرنا ہے، اس کے علاوہ کبھی کبھی گھی بنانے کے لئے کچھ اور بھی صنعتی عمل بھی کرتے ہیں اور کبھی صرف پیکنک  پر ہی اکتفا کرتے ہیں ( یہ گھی کی کوالٹی بنانے پر موقوف ہے کہ گاہک کیساگھی کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ کیا صرف Direct Filing والا مانگا ہے یا Processed Ghee مطلوب ہے ۔

یہ تفصیل اس لئے عرض کی کہ یہ حضرات بھی اپنے قبضے اور ضمان میں آنے سے پہلے مال بیچتے ہیں، مگر ان میں اور مڈل تاجر میں فرق ہے ۔ ایک تو یہ کہ ان کے پاس کچھ نہ کچھ اسٹاک موجود ہوتا ہے دوسرا یہ کہ ان کا صنعتی عمل بھی مبیع میں داخل ہوتا ہے، تیسرا یہ کہ تاجر یہ قبضہ کر کے پیک کرتے ہی  آگے سپلائی دیتے ہیں۔

سوالات :                                   

۱۔۔۔ ایسے آئل یا گھی ملز والوں کا مذکورہ  تاجروں سے مال خریدنا  اور آگے بیچنا کیسا ہے؟ یعنی جن سے خریدا وہ قبضے سے پہلے فروخت کر رہے تھے، پھر خود آگے بیچا  تو کبھی کبھی یہ بھی بعض مال کی بیع قبل قبض کے مرتکب ہوئے، البتہ جیسےعرض کیا کہ کچھ کچھ ان کے پاس عمومًا ہوتا ہے، نیز صنعتی عمل بھی کسی درجے میں کرتے ہیں ۔

۲۔۔۔آئل ڈپو  والے صرف اتنا کرتے ہیں کہ مال عمومًا مڈل تاجروں سے خریدتے ہیں اور اپنے پاس مال اتارتے ہیں اور پھر تیل کے ڈرم یا کین وغیرہ میں بھر کر بیچتے ہیں، ان سے متعلق سوال یہ ہے کہ یہ بھی چونکہ مڈل تاجروں سے مال خریدتے ہیں، جو بیع قبل القبض کرتے ہیں تو کیا ان کا ایسے تاجروں سے خرید کر فروخت کرنا جائز اور  حلال ہے ؟  جبکہ یہ خود  قبضہ کر کے بیچتے ہیں اور  عمومًا ان  کو ایسے تاجروں سے ہی  مال ملتا ہے، براہ راست امپورٹر یا آئل ملز والوں سے عموما ان  کامعاملہ نہیں ہو سکتا (اس کی وجوہ مختلف ہو سکتی ہیں یاتوان کی امپوٹر سے جان پہچان  نہیں یا تاجر  ان کو کچھ ادھا ر دینے کی سہولت دیتا ہے، جو مل والے یا امپوٹر عمومًا  اتنی سہولت نہیں دیتے یا کوئی اور وجہ ہو ) پھر آئل ڈپو والے بھی کبھی اپنے پاس موجود اسٹاک سے زیادہ سودے بیچ دیتے ہیں اور اس کے مقابلے میں مڈل تاجروں سے تیل کے سودے خرید لیتے ہیں جس پر ابھی آئل ڈپو والے نےابھی قبضہ نہیں کیا ہوتا، البتہ بعد میں وہ قبضہ کر کے ہی اپنے گاہکوں کو مال مہیا کرتے ہیں تو ان کا اس طرح خرید و فروخت کرنا ٹھیک ہے ؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ امپورٹر سے پہلا مڈل مین، اس سے دوسرا، پھر تیسرا اور پھر چوتھا مڈل مین خریدتا ہے، الغرض درمیان میں پانچ چھ تاجروں کا واسطہ ہوتا ہے،ان میں سے کوئی بھی قبضہ نہیں کرتا، بلکہ قبضہ آخری خریدار یعنی گھی مل والا کرتا ہے، باقی سب مڈل مین ریٹ کے اتار چڑھاؤ کا صرف فرق برابر کرتے ہیں۔

جواب

1،2۔ صورتِ مسئولہ میں جب گھی مل والوں کو علم ہوتا ہے کہ مڈل مین قبضہ کیے بغیر مال بیچ رہا ہے تو ان كا مڈل مین سے آئل خریدنا جائز نہیں، کیونکہ مال پر قبضہ کیے بغیر بیچنے سے شریعت میں صراحتاً منع کیا گیا ہےتو ان کا اس سے خریدنے کی صورت میں ناجائز خریدوفروخت اور جوئے وسٹہ کے کام کی تائید کرنا لازم آتا ہے، نیز گھی مل والا خواہ اس آئل میں صنعتی عمل کرے یا نہ کرے، بہر صورت پہلی خریدوفروخت جائز نہیں ہو گی، کیونکہ صنعتی عمل کا تعلق اگلی خریدوفروخت(جو گھی مل والے اور عام صارفین کے درمیان ہو گی) سے ہے، لہذا اس صنعتی عمل سے پچھلی خریدوفروخت جائز نہیں ہو گی، بلکہ وہ بدستور ناجائز ہی رہے گی۔

اسی طرح خریدار کا بغیر قبضہ کیے آگے بیچنا بھی جائز نہیں، اگرچہ کچھ مال ان کے پاس پہلے سےموجود ہو، کیونکہ اصول یہ ہے کہ خریدے گئے مال کو قبضہ کیے بغیر آگے بیچنا منع ہے، خواہ اس کو موجود مال کے ساتھ ملا کر بیچا جائے یا  علیحدہ طور پر صرف خریدا گیا مال بیچا جائے۔

یہ بھی یاد رہے کہ گھی مل والے اگر باقاعدہ صنعتی عمل کرکے آگے بیچتے ہیں، جیسے آئل کو صاف کرنا، اس کی قدرتی خوشبو ختم کرنا اور اس کے رنگ کو صاف کرنے کے لیے کیمیکل استعمال کرنا وغیرہ۔ تو اس صورت میں استصناع کا معاملہ کیا جا سکتا ہے، جس کی تفصیل گزشتہ فتوی میں ذکر کی جا چکی ہے۔ لیکن اگر صنعتی عمل نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف گھی ڈپوں میں پیک کر کے بیچا جاتا ہے تو اس صورت میں معتدبہ صنعتی عمل نہ ہونے کی وجہ سے استصناع کا معاملہ نہیں کیا جا سکتا، البتہ بیع سَلم کا معاملہ کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اس کی تمام شرائط کا مکمل لحاظ رکھا جائے، جن کی تفصیل گزشتہ فتوی میں ذکر کی گئی تھی۔


حوالہ جات

أخبار مكة للفاكهي (3/ 48، رقم الحديث: 1801) دار خضر – بيروت:

حدثنا محمد بن أبي عمر، قال: ثنا نصر بن باب، عن حجاج بن أرطأة، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، رضي الله عنه قال: إن النبي صلى الله عليه وسلم بعث عتاب بن أسيد رضي الله عنه إلى أهل مكة وقال: " هل تدري إلى من أبعثك؟ أبعثك إلى أهل الله، فانهَهُم عن شرطين في بيع، وبيع وسلف، وربح ما لم يضمن، وبيع ما لم يقبض "


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :75856
تاریخ اجراء :2021-02-08

فتوی پرنٹ