1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

ایمازون کی ویب سائٹ پر کاروبار کرنے کا تفصیلی حکم

سوال

1۔گزارش ہے کہ Amazon ایک امریکا کی Online Website ہے ، جس پر  دکاندار کرائے پردکان لے کر کاروبار کرتا ہے اور دکان کا کرایہ ادا کرتا ہے، ایسے ہی Amazon آن لائن ویب سائٹ ہے، جو کہ تاجر کوا پنامال فروخت کرنے کے لیے اپنی Online ویب سائٹ فراہم کرتا ہے۔ Amazon اس وقت دنیا کے بیش تر ممالک میں کام کر رہا ہے اور تاجر اپنا مال Amazon Online کی ویب سائٹ پر سیل کرتے ہیں ۔ Amazon اپنے سروس چارجز اور ٹیکس کاٹ کر سیل ہونے والے مال کے پیسے آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیتا ہے ۔ جن ممالک میں Amazon کام کر رہا ہے، اگر آپ اس ملک میں از خودموجود ہیں تو بآسانی Amazonکا اکاؤنٹ بن جاتا ہے، جس کے لیے آپ کو Passport اور بینک اکاؤنٹ کی ضرورت ہوتی ہے، پاکستان میں رہنے والے لوگ اپنے پاکستانی پاسپورٹ پر وہاں پر موجوداپنے کسی رشتہ دار کے ذریعے اپنا اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں ۔ جس سے وہ پاکستان میں بیٹھ کر اپنا آن لائن کاروبار کسی دوسرے ملک میں کر لیتے ہیں ۔  میری بیوی نے اپناکا ؤنٹUK میں بنایا، چونکہ ایڈریس کے لیے کوئی رشتہ دارنہ تھا، لہذا ایسے لوگ  اورکمپنیاں ہوتی ہیں جو آپ کو Address فراہم کرتی ہیں جس پر آپ کی ڈاک آ جا سکے اور کمپنی وہ ڈ اک آپ کو Whatsappیا Mail کر دیتی ہے، جس کا وہ سالا نہ معاوضہ بھی لیتی ہے ۔ دوسرا آپ پاکستان میں رہتے ہوئے اپنا کاؤنٹ UK کے بینک میں کھولتے ہیں، جو کہ Amazon کی شرائط میں ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ UK میں کام کر رہے ہیں، اس طرح آپ پاکستان میں رہتے ہوئے کسی بھی دوسرےملک میں ا پنا کاؤنٹ کھول کر Amazon کی ویب سائٹ پر کاروبار کر سکتے ہیں۔

2۔ جب آپ کا اکاؤنٹ کھل جا تا ہے تو آپ کو اپنی چیز پروڈکٹ سیل کر نے کےلیے ایمازون کے Warehouse میں رکھوانی پڑتی ہے، جو ایمازون خریدار کو ڈیلیور کرتا ہے۔ Amazonپر مال خریدار کو پہنچانے کے دو طریقے ہیں:

FBA

FBM

FBA Fullfilled by Amazon-i كا مطلب آپ اپنا مال Amazon کے Warehouse میں رکھوادیں ۔ آن لائن Order ملنے پر Amazon اس کو ڈيلیور کر دے گا ۔

FBM Fullfilled by Merchant-ii مطلب تا جر از خود ا پنامال Order ملنے پر ڈیلیور کرے گا، جولوگ دوسرے ممالک کا اکاؤنٹ بناتے ہیں وہ یہ کام از خود نہیں کر سکتے، كيونکہ وہ وہاں Physically موجود نہیں ہوتے۔

3۔ اگر UK میں آپ کا اکاؤنٹ ہے تو آپ نے کوئی چیزياپروڈکٹ جوحلال ہوخر یدکر یا بنوا کر Amazon کے warehouse میں رکھوانی ہے ۔ جس کے لیے آپOnline ہی چائنہ کی چیزیں دیکھتے ہیں ، پھران کے sample منگواتے ہیں،اگر سمجھ آئے تو اسے تیار کروانے کا آرڈر دیتےہیں ۔ پھر Online ہی کسی کمپنی کو اپنے آرڈر دیئے ہوئے مال کی انسپیکشن (Inspection) کے لیے کہتے ہیں تاکہ پتا چل سکے مال ٹھیک بنا ہے کہ نہیں ۔ اس کمپنی کو آپ 300 ڈالر معاوضہ بھی inspection کا دیتے ہیں اگر وہ کمپنی Ok کر دے تو جس کمپنی کو مال کا آرڈ ر کیا تھا اس کو پوری رقم ادا کر تے ہیں اور پھر China سے ہی Shipment کے ذریعے Amazon کے Warehouse میں بھیج دیتے ہیں ۔اس کے بعد سامان /مال پروڈکٹ آپ کے پاس نہیں آتی، بلکہ آن لائن ہی سارا کام ہوکر سامان Amazon کے پاس چلا جا تا ہے اور Order ملنے پر مال فروخت ہوتا ہے ۔

Amazon پر کا رو با رکرنے کے تین طریقے ہیں:

Whole sale

Private Label

Drop Shipping

  1. یہ کہ آپ Whole sale میں سامان اٹھا کر مثلا:Bonanza کا سامان اٹھا کر Amazon پرفروخت کرے۔
  2.  Private Label میں آدمی اپنا برانڈ بنا کر اور اسے رجسٹرڈ کروا کر Amazon پر سیل کرے، جیسے MTJ Brand اور Brand J.J دیں۔
  3.  Dropshipping کے ذریعے اپنا مال فروخت کیا ۔ اس میں آپ کو مختلف Club یا دیگر ویب سائٹس پر جو پروڈکٹ سیل ہو رہی ہو، اسے Amazon کی ویب سائٹ پر سیل کیاجاتا ہے، Dropshipping میں آپ کی Shipper ڈلیور کر نے والے کو Hire کر سکتے ہیں ۔ جو اس کمپنی کی پیکنگ اتار کر اس کو سادہ پیکنگ میں اس کو ڈیلیور کردے گا،  جس کی Amazon بھی اجازت دیتا ہے ۔

جناب محترم مفتی صاحب میرے علم میں جو معلومات تھیں  آپ کو فراہم کی ہیں، اگر آپ کی اپنی بھی کوئی ذاتی معلومات Amazon کے بارے میں ہیں یا اس کے بارے میں آپ معلومات حاصل کر والیں اور اس کے بعد ہمیں بتائیں کہ کیا اس طرح کا کا روبار کرنا آن لائن جائز ہے؟ بندہ نے پیراگراف نمبر1  میں اکاونٹ کھولنے کا طریقہ کار،  پیراگراف نمبر2 میں خریدار کو پروڈکٹ سامان /مال ڈلیور کرنے کا طریقہ کا ر، پیراگراف نمبر3 میں سامان آن لائن خرید نے کا طریقہٴ کا ر اور پیراگراف نمبر4 میں amazon پر کاروبار کرنے کا طریقہ کار لکھا ہے۔

 استدعا ہے کہ اگر اسلام کے اندر اس طرح کا آن لائن کا روبار جائز ہے تو ہمیں بتائیں،  تا کہ حلال روز گار کیا جا سکے۔ اور اگر کچھ حلال اور کچھ  حرام ہے پھر بھی آگاہ فرمائیں، تا کہ حرام مال کمانے سے بچا جاسکے ۔

جواب

ایمازون کی ویب سائٹ پرکاروبار کرنے والے تاجروں کی طرف سے دی گئی معلومات کی روشنی میں ایمازون پر کی جانے والی  خریدوفروخت  کی اقسام اور ان کا حکم علیحدہ علیحدہ ملاحظہ فرمائیں:

  1. ہول سیل (Whole sale):

ایمازون کے ذریعہ ہول سیل کے کاروبارمیں تاجر عام طور پر چیز خریدنے اوراس پر قبضہ کرنے کے بعد آگے فروخت کرتا ہے، اس میں اپنی تیار کردہ چیز یا  اپنابرانڈ ہونا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ اس میں تاجر بطور رجسٹرڈ کمپنی کسی ہول سیلر، ڈسٹری بیوٹر یا برانڈ سے مال خریدتا ہے۔ البتہ اپنی کمپنی رجسٹرڈ کروائے بغیر ہول سیل ریٹ پر مال نہیں لیا جا سکتا، اسی لیے اس میں جس کمپنی سے مال خریدا گیا ہو تاجر کے پاس اس کا اجازت نامہ یعنی برانڈ آتھورائزيشن ليٹرہونا ضروری ہے۔پھر مال بیچنے کے بعد خواہ ایف بی اے (Fullfilled by Amazon) کے ذریعہ کسٹمر تک مال پہنچایا جائے یا ایف بی ایم(Fullfilled by Merchant) کے طریقہ سے، بہر صورت درست ہے، ان میں فرق یہ ہے کہ ایف بی اے میں فروخت کنندہ چیز خرید کرایمازون کے گودام میں رکھواتا  ہے اور پھر ایمازون کو خریدار تک چیز پہنچانے کا وکیل بناتا ہے۔ جبکہ ایف بی ایم میں خریدار تک خود وہ چیز پہنچاتا ہے، لیکن بہر صورت ہول سیل کے طریقہ میں مال پہلے خرید کر پھر آگے بیچا جاتا ہے، اگر خریدنے سے پہلے بیچا جائے تو یہ صورت ڈراپ شپنگ کی ہے، جس کی تفصیل آگے آرہی ہے، ہول سیل کا کاروبار درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:

ا) ہول سیل کے لیے کمپنی جس ملک میں رجسٹرڈ ہو، اس ملک اورایمازون کے قانون کے مطابق واجب شدہ ٹیکس کی ادائیگی کا خیال رکھا جائے۔

۲) جس کمپنی کی پروڈکٹ سیل کرنا ہو، اس کی طرف سے اجازت نامہ یعنی برانڈ آتھورائزيشن ليٹر(Brand Authorization Letter) حاصل ہو، کیونکہ مذکورہ کمپنی کی طرف سے اجازت نامہ کا حصول ایمازون پر کاروبار کی شرائط میں سے ہے، لہذا ایمازن کے مطالبے پر جعلی لیٹر بنوا کر دکھانا جائز نہیں، اس میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کا عنصر پایا جاتا ہے۔

  1. پرائیویٹ لیبل: (Private Label):

پرائیویٹ لیبل میں تاجر کبھی اپنا برانڈ تیار کر کےایمازون پر فروخت کرتا ہے اور اکثر مینو فیکچرر(مال بنانے والا)سے بنوا تاہے اور اس پر اپنا لیبل لگاتا ہے، تاجروں کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق پرائیویٹ لیبل میں چیز خود تیارکرنا یا کسی سے تیارکروا کر اس کے اوپر اپنا لیبل لگوانا ضروری ہے، پرائیویٹ لیبل میں گاہکوں یعنی کسٹمرز کے درمیان یہ بات معروف ہوتی ہے کہ یہ تاجر اپنا برانڈ تیار کرواتا ہے اور پھر گاہک اس کا نام لے کر ایمازون کے ذریعہ مال خریدتے ہیں۔

      پھر اس میں بھی  ایف بی اے (Fullfilled by Amazon)  کا طریقہ ٴکار اپنایا جائے یا ایف بی ایم(Fullfilled by Merchant)  کا بہر صورت درست ہے، نیز پرائیویٹ لیبل میں چیز از خود تیار کرنےیا مینوفیکچررسے تیارکروانے سے  پہلے بھی خریداروں سے آرڈر لینے اور ان سے معاملہ حتمی کرنے کی اجازت ہے، کیونکہ جب تاجر خود اپنا برانڈ تیار کرے یا کسی اور سے تیار کروا کے بیچے توبہرصورت  آرڈر دینے والے کی شرعی حیثیت مستصنع  (آرڈر پر چیز تیار کروانے والا) اور تاجر کی صانع (آرڈر پر چیزبنانے والا) کی ہوتی ہے اور استصناع کے معاملے میں چیز تیار کرنے سے پہلے آرڈر لینا درست ہے، اس میں چیز کا ملکیت میں

ہونا اور قبضہ میں ہونا ضروری نہیں، البتہ اس میں تاجر کو چاہیے کہ اپنی دکان پر یہ اعلان لکھ دے کہ یہاں آرڈر پر چیز تیار کرکے دی جاتی ہے، تاکہ کسٹمرز پر یہ بات واضح ہو کہ یہ تاجر خود پروڈکٹ تیار کرکے بیچتا ہے،  اس کے علاوہ  ایمازون پر پرائیوٹ لیبل كا کاروبار کرنے کے لیے درج ذیل شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے:

۱) بیچی جانے والی مصنوعات پر موجود پیکجنگ(Packaging) پر آپ کی پہلے سے رجسٹرڈ کمپنی یا  آپ کے رجسٹرڈ (یا جس کو آپ آگے چل کر رجسٹر کروائیں گے) ٹریڈ مارک کا نام ہو، ایسی کمپنی کا لیبل نہ لگایا جائے جسنے آپ کو مال بیچنے کی اجازت نہیں دی۔

۲) لیبل لگانے میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کا عنصر نہ پایا جائے، مثلا ایسی کمپنی کا لیبل نہ لگایا جائے کہ آپ کی پروڈکٹ اس کے معیار کے مطابق نہ ہو، کیونکہ لوگ اس کمپنی کا لیبل دیکھ کر چیز خریدیں گے، جبکہ حقیقت میں اس کمپنی کے معیار کے مطابق چیز نہ ہو گی تو ان کو نقصان ہو گا، جو کہ جائز نہیں۔

 ۳) ایمازون کے ساتھ معاہدہ نامہ کی تمام جائز شرائط کا خیال رکھا جائے، جیسے اپنی پروڈکٹ مفت لوگوں کو دے کر اس اچھا اور عمدہ ریویو (Review) لینا وغیرہ، تاکہ ایمازون آپ کی پروڈکٹ کو پہلے صفحہ پر دکھائے، اس سے پروڈکٹ کی سیل میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ یہ ایمازون کے معاہدے کے صریح خلاف ہے۔

۴)جھوٹ اور دھوکہ دہی  سے مکمل اجتناب کیا جائے اور مصنوعات کی صرف اُن خصوصیات کو اجاگر کیا جائے جو کہ اُس میں موجود ہوں، غلط بیانی پر مبنی اوصاف نہ بیان کیے جائیں، جیسے پالش شدہ فرنیچر کو نیا فرنیچر کہہ کر  اور ناخالص شہد وغیرہ کو خالص کہہ کر نہ فروخت کیا جائے۔

۵) غلط منفی تجزیہ آنے کی صورت میں  بھی اچھے تجزیہ کے لیےمحض جائز طریقے استعمال کیے جائیں۔ نیزاگرحقیقت پر مبنی منفی تجزیے موصول ہوں تو مصنوعات میں موجود خرابیوں کو دور کیا جائے۔

۶) اِس کاروبار کو کرنے کے لیے کمپنی رجسٹریشن کے دوران کسی بھی قسم کے جھوٹ سے مکمل اجتناب کیا جائے، اور جس ملک میں کمپنی کھولی جائے اُس ملک کے قوانین کا احترام کیا جائے۔

۷) شرعی طور پر ناجائز مصنوعات، جیسے شراب، سور وغیرہ جیسی اشیاءیا ان کے اجزاء والی مصنوعات کی فروخت سے رُکا جائے۔

۸) استصناع یعنی آرڈر پر چیز بنا کر فروخت کرنے کا معاملہ صرف ان چیزوں میں درست ہوگا، جن میں لوگوں کا آرڈر پر چیز بنوانے کا عرف ہو، اگر لوگ وہ چیز آرڈر پر نہ بنواتے ہوں، جیسے برتن وغیرہ تو اس صورت میں یہ استصناع کا معاملہ نہیں ہو گا اور چیزبیچنے سے پہلے تاجر کا اس چیز پر قبضہ ہونا ضروری ہے۔

  1. ڈراپ شپنگ (Drop Shipping):

ڈراپ شپنگ میں تاجر غیر مملوک اور غیر مقبوض مال کو فروخت کرتا ہے، اس کا طریقہٴ کار یہ ہوتا ہے کہ ایمازون کا تاجر پہلے کسٹمر کو چیز بیچتا ہے اور پھر ہول سیلر کو فون پرکہتا ہے کہ آپ اتنا مال فلاں جگہ روانہ کر دیں، ہول سیلر اتنا مال خریدار کی طرف روانہ کر دیتا ہے، اس کے بعد راستے کا سارا ضمان ایمازون کے تاجر کا ہوتا ہے، مطلب یہ کہ اس میں چیز خریدنے سے پہلے آگے بیچی جاتی ہے اور کبھی خریدنے کے بعد قبضہ کیے بغیر خریدار کے سپرد کی جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں غیر مملوک اور غیر مقبوض کی خریددفروخت ہوتی ہے، اس لیے  ایمازون پر ڈراپ شپنگ (Drop Shipping) کاکاروبار کرنا جائز نہیں، البتہ اس کی جائز اور متبادل تین صورتیں ہیں:

ڈراپ شپنگ (Drop Shipping) کی جائز صورتیں:

پہلی صورت: وعدۂ بیع کا معاملہ کر لیا جائے، جس کی صورت یہ ہے کہ فروخت کنندہ کسٹمر کو صراحتاً بتا دے کہ یہ چیز میرے پاس موجود نہیں ہے، میں کسی سے خرید کر آپ کو فروخت کروں گا۔اس کے بعد فروخت کنندہ چیز خرید کر پہلے خود اس پر قبضہ کرے یا  کسی شخص جيسے مال پہنچانے والی گاڑی كے ڈرائيور کو مال پر قبضہ کرنے کا وکیل بنا دے، قبضہ کرنے کے بعد وہ مال خریدار تک پہنچا دیا جائے، خریدارکے پاس مال پہنچنے کے بعد تعاطیاً (فروخت کنندہ کا ثمن پر اور خریدار کا مبیع پر قبضہ کرنا) خریدوفروخت کا معاملہ مکمل ہو جائے گا۔

دوسری صورت: ڈراپ شپنگ (Drop Shipping) کے جواز کی دوسری  صورت یہ ہے کہ درمیان والا شخص (جس کے پاس چیز کی خریداری کا آرڈر آیا ہے)  خریدار اور فروخت کنندہ  کے درمیان کمیشن ایجنٹ بن جائے، مثلاً: اگر  زید کے پاس آرڈر آتا ہے تو  اس کو چاہیے کہ کمپنی (جس سے زید مال خرید کر کسٹمر کو فروخت کرنا چاہتاہے)سے یہ طے کر ے کہ میں آپ کے پاس گاہک لاؤں گا وہ جتنے کی خریداری کرے گا اس کا اتنے فیصد  میری اجرت ہو گی یا  یوں بھی طے کر سکتا ہے کہ ایک کاٹن کی  فروختگی  پر اتنے روپے لوں گا وغیرہ۔

تیسری صورت: ایمازون کے تاجر کا جس ہول سیلر سے رابطہ ہو اس کے گودام یا اسٹور کا ایک مخصوص حصہ کرایہ پر لے لیا جائے اور فروخت کیا جانے والا مال اس میں رکھا جائے، اس کے بعد آرڈر موصول ہونے پر تاجر ہول سیلر سے کہے کہ اتنا مال میرے گودام سے اٹھا کر فلان ایڈریس پر روانہ کر دیا جائے تو یہ معاملہ درست ہو جائے گا۔

  1. ایفلیٹ مارکیٹنگ(Affiliate Marketing) کا طریقہٴ کار اور حکم:

ایفلیٹ مارکیٹنگ کا طریقہٴ کار یہ ہے کہ ایمازون پر مختلف کمپنیوں کی پروڈکٹس فروخت ہوتی ہیں اور ہر پروڈکٹ کا ایک لنک ہوتا ہے، اگر کوئی شخص اس لنک کو کاپی کرکے دوسری جگہ مثلا اپنی ویب سائٹ، فیس بک یا یوٹیوب چینل پر بھیجے اور پھر کوئی شخص اس لنک کو کھول کر ایمازون سے وہ پروڈکٹ خریدلے تو لنک بھیجنے والے کو اس کا کمیشن دیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے بھیجے گئے لنک کے ذریعہ خریدوفروخت ہوئی ہے، اس کو ایفلیٹ مارکیٹنگ کہتے ہیں، اس طرح مارکیٹنگ کرکے کمیشن حاصل کرنا درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:

۱) شرعی اعتبار سے جائز پروڈکٹ کا لنک بھیجا جائے، تاکہ شرعاً ناجائز اشیاء کی خریدوفروخت کا ذریعہ بننا  لازم نہ آئے۔

۲)پروڈکٹ کی خریدوفروخت میں غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے کام نہ لیا جائے، مثلا: ناخالص اشیاء کو خالص یا پرانی چیز کو نئی کہہ کر فروخت نہ کیا جائے۔

۳)کمیشن متعین رقم یا کم از کم فیصد کے اعتبار سے طے ہو، تاکہ معاملہ میں کسی قسم کا خفاء اور ابہام نہ ہو۔


حوالہ جات

القرآن الكريم[الإسراء: 34]:

{ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (34) }

المعجم الأوسط (2/ 154، رقم الحديث: 1554):

حدثنا أحمد قال: نا عبد القدوس بن محمد الحبحابي قال: نا عمرو بن عاصم الكلابي قال: نا همام بن يحيى، عن عاصم الأحول، وابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سلف وبيع، وعن شرطين في بيع، وعن بيع ما لم يقبض، وربح ما لم يضمن»

شرح مجلة الاحکام العدلیة لمحمد خالد الأتاسي(400/2):                          

الاستصناع نوع من أنواع البيوع، وقد اختلفت عباراتهم عن هذاالنوع قال بعضهم هو عقد علي مبيع في الذمة وقال بعضهم  هو عقد  علي مبيع في الذمة شرط فيه العمل۔ وجه القول الأول أن الصانع لو أحضرعينا كان عملها قبل القبض ورضي به المستصنع لجاز، ولو كان شرط العمل من نفس العقد لماجاز۔

 

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 3) دار الكتب العلمية:

[فصل في حكم الاستصناع] وأما حكم الاستصناع: فهو ثبوت الملك للمستصنع في العين المبيعة في الذمة، وثبوت الملك للصانع في الثمن ملكا غير لازم۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 76) قديمي كتب خانه كراتشي:

 (المادة 389) : كل شيء تعومل استصناعه يصح فيه الاستصناع على الإطلاق وأما ما لم يتعامل باستصناعه إذا بين فيه المدة صار سلما وتعتبر فيه حينئذ شروط السلم وإذا لم يبين فيه المدة كان من قبيل الاستصناع أيضا.

شرح مجلة الأحكام العدلية لمحمد خالد الأتاسي (404/2) مكتبة رشيدية:

"صار سلما وتعتبر فيه حينئذ شروط السلم"  لتعذر جعله استصناع لعدم التعامل قال: "وإذا لم يبين فيه المدة كان من قبيل الاستصناع أيضا." والحاصل أن ما تعورف استصناعه ولم يبين له مدة أصلا أو بين دون الشهر فهو استصناع بالاتفاق وإن بين له مدة شهر أو أكثر فهو استصناع عندهما، سلم عنده وما لم يتعارف استصناعه ، إن بين فيه مدة السلم أو أكثر ، فهو سلم بالاتفاق، وإن لم يبين فيه مدة فهو استصناع فاسد  منهي عنه۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 224) دار الكتب العلمية:

ولما في البدائع. وأما صفته: فهي أنه عقد غير لازم قبل العمل من الجانبين بلا خلاف حتى كان لكل واحد منهما خيار الامتناع من العمل كالبيع بالخيار للمتبايعين ۔۔۔۔۔۔۔۔وأما بعد الفراغ من العمل قبل أن يراه المستصنع فكذلك حتى كان للصانع أن يبيعه ممن شاء۔

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (3/ 150):

لما صح بيعه وله أخذه وتركه أي للمستصنع بكسر النون بعد الرؤية بالخيار إن شاء أخذه وإن شاء تركه ولا خيار للصانع فيجبر على العمل وعن الإمام أن له الخيار دفعا للضرر عنه والصحيح الأول وعن أبي يوسف أنه لا خيار لواحد منهما۔                          

المعاییر الشرعیہ(ص:108):عقد الاستصناع  ملزم للطرفين اذا توافرت  فيه شروطه۔


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :75855
تاریخ اجراء :2022-02-07

فتوی پرنٹ