1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

حقیقی بہن کی موجودگی میں ماں شریک بہن وارث ہو گی یا نہیں؟

سوال

سید زاہد افضل کا سال پہلے انتقال ہوگیا تھا، ان کے ورثاء میں دو بھائی اور دو ماں شریک بہنیں ہیں، دو بہنیں  انکی سگی تھیں، ان کا انتقال زاہد صاحب کی زندگی میں ہو گیا تھا، اور ایک بیوی  ہے، پوچھنا یہ ہے کہ وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی ؟کیا ماں شریک بہنوں کا وراثت میں حصہ ہوگا اور جو ان کی زندگی میں سگی بہنیں فوت ہو گئیں ان کا حصہ ہوگا؟ اور بھائیوں اور بیوی کا حصہ کیسے تقسیم ہو گا ؟

جواب

سید زاہد مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں ،البتہ اگر کسی نے بطور تبرع ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب شدہ قرض  ادا کیا جائے  ، پھر مرحوم نےاگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ  میں سے ایک تہائی(3/1) کی حد تک اس پر عمل کیا جائے۔اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے   اس کوپندرہ (72) حصوں میں  برابرتقسیم کرکے  مرحوم کی بیوی کو اٹھارہ (18) حصے، بھائیوں میں سے ہر ایک کو (10) حصے، حقیقی بہنوں میں میں سے کو پانچ (5) اور ماں شریک بہنوں میں سے ہر ایک کو (12) حصے دیے جائیں گے، ان کے علاوہ جس بہن کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہو چکا تھا اس کے ورثاء مرحوم کی وراثت میں سے کسی حصہ کے حق دار نہیں ہوں گے، فيصدی لحاظ سے ہر وارث كے حصہ کی تفصیل ذیل کے  نقشہ میں  ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

وارث

    عددی حصہ

     فيصدی حصہ

1

بیوی

18

25%

2

بھائی

10

13.888%

3

بھائی

10

13.888%

4

حقیقی بہن

5

6.944%

5

حقیقی بہن

5

6.944%

6

خیفی بہن

12

16.666%

7

خیفی بہن

12

16.666%


حوالہ جات

القران الكريم [النساء: 12]:

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ }

أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (3/ 21) دار إحياء التراث العربي،بيروت:

فهذه الكلالة هي الأخ والأخت لأم لا يرثان مع والد ولا ولد ذكرا كان أو أنثى وقد روي أن في قراءة سعد بن أبي وقاص [وإن كان رجل يورث كلالة أو امرأة وله أخ أو أخت لأم] فلا خلاف مع ذلك أن المراد بالأخ والأخت هاهنا إذا كانا لأم دونهما إذا كانا لأب وأم أو لأب وقد روي عن طاوس عن ابن عباس أن الكلالة ما عدا الولد وورث الإخوة من الأم مع الأبوين السدس وهو السدس الذي حجبت الأم عنه وهو قول شاذ وقد بينا ما روي عنه أنها ما عدا الوالد والولد ولا خلاف أن الإخوة والأخوات من الأم يشتركون في الثلث ولا يفضل منهم ذكر على أنثى.

السراجي في الميراث: (ص:16) مكتبة البشرى:

وأما لأولاد الأم فأحوال ثلاث: السدس للواحد، والثلث للاثنين فصاعدا، ذكورهم وإناثهم في القسمة والاستحقاق سواء، ويسقطون بالولد وولد الابن وإن سفل، وبالأب ولجد بالاتفاق.


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76012
تاریخ اجراء :2022-02-14

فتوی پرنٹ