1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

حکومت کے مجازافسران کی طرف سے منظور شدہ بلڈنگ گرانے کا حکم

سوال

جوعمارت اپنے تمام این او سی (NOC)کےکاغذات کی تکمیل کے بعد بنائی گئی ہو(یعنی وہ تمام کاغذات جو کہ ایک عمارت کو بنانے کے لئے مجاز اداروں  سے لیے جاتے ہیں،وہ مکمل ہیں اور اس وقت آباد بھی ہو، کیا ایسی عمارت کو بغیر کسی قانونی وجہ کے  کسی ادارے کا اپنے اختیار کی  بنیاد پر کیس شروع کرنا اور اس کے بعد اس عمارت کے منہدم کرنے کا حکم نامہ جاری کرنا ،جبکہ اس میں ایک ایک فلیٹ کی مالیت کروڑوں تک ہے،جس میں رہنے والے متوسط  طبقہ  سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی جمع پونجی سے اپنے گھروں کو بناتے ہیں اور اسی میں  ان لوگوں کی رہائش ہے۔لہذا درج ذیل سوالات کےقرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں:

1۔ مروجہ مجاز ادارے جو اجازت نامہ جاری کرتے ہیں ان اداروں کے معاملے میں اور ان کے افسران کے معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

2۔ کیا شرعاً  کوئی ادارہ  این او سی کی بنیاد پر تعمیر کی گئی عمارت کو منہدم کرنے کا حکم نامہ جاری کرسکتا ہے؟ جبکہ وہ پندرہ منزلہ عمارت ہو اور لوگ اس میں رہائش پذیر ہوں۔

3۔کیا اس طرح  کا حکم نامہ انصاف پر مبنی ہے؟

جواب

سوال کے جواب سے پہلے دو مقدمات کو سمجھنا ضروری ہے:

مقدمہ نمبر1:

 اسلام نے لوگوں کے جانی حقوق کی طرح مالی حقوق کی حفاظت کی بھی بہت تاکید فرمائی  ہے اور ان حقوق کی پامالی پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں، اسی سلسلے میں حدیثِ پاک میں ایک اصول بیان فرمایا گیا ہے:" لا ضرر ولا ضرار" یعنی نہ کسی کو ابتداءً نقصان پہنچانا ہے اور نہ ہی انتہاءً، یعنی بدلہ لیتے وقت بھی  دوسرے فریق کو (اس کے جرم سے زیادہ)جانی یا مالی نقصان پہچانا جائز نہیں۔(ديكھيے عبارت:1) لہذا  شریعت کا یہ مسلمہ قاعدہ  ہے کہ جس شخص نے جتنا نقصان کیا ہے اس کو اتنے نقصان کا ہی ضامن بنایا جائے گا، بدلے میں اس کی تعدی اورجُرم سے زیادہ نقصان پہنچانا شرعاً جائز نہیں۔ اس لیے غصب کے معاملے میں بھی غاصب نے جتنی چیز غصب کی ہے اس کو اسی چیز یا اس کے ضائع ہونے کی صورت میں اس کی قیمت کا ضامن ٹھہرایا جائے گا۔

مقدمہ نمبر2:

اگر کوئی شخص کسی کی زمین پر اس کی اجازت کے بغیر بلڈنگ تعمیر کر لے تو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس کی تین صورتیں ذکر کی ہیں:

پہلی صورت: تعمیر کی گئی عمارت کی قیمت زمین کی قیمت سے کم ہو تو اس صورت میں بالاتفاق  غاصب سے کہا جائے گا کہ وہ اپنی تعمیر اکھاڑ لے اور ملبہ لے جانا چاہے تو وہ لے کر جا سکتا ہے۔

دوسری صورت: عمارت کی قیمت زمین کی قیمت سے زیادہ ہو تو اس صورت میں فقہ حنفی میں دو قول منقول ہیں، امام کرخی رحمہ اللہ کا قول یہ ہے کہ تعمیر کرنے والا اس زمین کا مالک بن جائے گا اور وہ مالک کو زمین کی قیمت دینے کا پابند ہو گا۔  دوسرا قول ظاہر الروایہ ہے، وہ یہ کہ بہر صورت (تعمیرکی قیمت کم ہو یا  زیادہ) اس کو تعمیر اکھاڑنے کا حکم دیا جائے گا، اس قول پر مفتی روم شیخ الاسلام علی افندی رحمہ اللہ نے فتوی دیا ہے اور علامہ شامی رحمہ اللہ کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے۔

علامہ رافعی رحمہ اللہ نے شیخ عبد الحلیم رحمہ اللہ کے حوالے سے دونوں قولوں کے درمیان تطبیق کا راستہ یہ نقل کیا ہے کہ اگر غاصب نے اپنے گمان کے مطابق کسی سببِ شرعی کی بنیاد پر تعمیر کی ہو تو اس صورت میں امام کرخی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق فتوی دیا جائے گا اورفرمایا کہ یہی قول زیادہ انصاف پر مبنی ہے، مجلة الاحکام العدلیہ اور اس کی شرح میں علامہ خالد اتاسی رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو ذکر کیا ہے۔ اور یہی قول راجح معلوم ہوتا ہے، کیونکہ   اس صورت میں عمارت بنانے والا  اپنے گمان کے مطابق اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہا تھا اور اس نے غلط فہمی کی وجہ سے عمارت بنائی تھی، لہذا اس کا عذر قبول  ہونا چاہیے، جبکہ دوسری صورت میں اس نے دانستہ طور پر دوسرے کی زمین پر ناحق عمارت بنائی ہے، اس لیے ظلم کے دروازے کو بند کرنے کے لیے اس کو بہر صورت تعمیر اکھاڑنے کا حکم دیا جائے گا، خواہ عمارت کی قیمت زمین سے کم ہو یا زیادہ۔

تیسری صورت: عمارت اور زمین دونوں کی قیمت مساوی ہو تو اس صورت میں علامہ شامی رحمہ اللہ نے تاتارخانیہ کے حوالے سے ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ زمین سمیت عمارت کو بیچا جائے گا اور حاصل شدہ قیمت دونوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے گی، لیکن علامہ شامی رحمہ اللہ کی اپنی رائے  یہ معلوم ہوتی ہے کہ بہر صورت غاصب کو تعمیر اکھاڑنے کا حکم دیا جائے گا، خواہ تعمیر کی قیمت زمین سے کم ہو یا زیادہ، نیز علامہ خالد اتاسی رحمہ اللہ نے مجلة الاحکام العدلیہ کی عبارت سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غاصب کو تعمیر اکھاڑنے کا حکم نہ دینا دو شرطوں کے ساتھ مقید ہے:

اول : غاصب نے اپنے گمان کے مطابق کسی شرعی سبب کی بنیاد پر عمارت  بنائی ہو۔

دوم: تعمیر کی قیمت زمین کی قیمت سے زیادہ ہو۔

 لہذااگر ان دونوں میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو ظاہرالروایہ پر عمل کرتے ہوئے اس کو تعمیر اکھاڑنے کا حکم دیا جائے گا، جیسا کہ مجلة الاحکام العدلیة کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے، عبارات ملاحظہ فرمائیں:

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 72) دار الكتب العلمية، بيروت:

القاعدة الخامسة: الضرر يزال:

أصلها قوله عليه الصلاة والسلام {لا ضرر ولا ضرار} أخرجه مالك في الموطإ عن عمرو بن يحيى عن أبيه مرسلا، وأخرجه الحاكم في المستدرك والبيهقي والدارقطني من حديث أبي سعيد الخدري، وأخرجه ابن ماجه من حديث ابن عباس وعبادة بن الصامت رضي الله عنهم. وفسره في المغرب بأنه لا يضر الرجل أخاه ابتداء ولا جزاء.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 131):

ولو غصب أرضا وبنى فيها وقيمة البناء أكثر من قيمة الأرض لا سبيل للمغصوب منه على الأرض ويضمن الغاصب قيمة أرضه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 205) دار الفكر-بيروت:

وقد اختلفوا فيما لو غصب أرضا وبنى فيها أو غرس ما قيمته أكثر من قيمة الأرض هل يملك الأرض بقيمتها أم يؤمر بالقلع؟ والرد  إلى المالك: أفتى المفتي أبو السعود بالثاني، وعليه يظهر إطلاقهم هنا إما على القول الأول فتقيد المسألة بما إذا كان قيمة البناء أقل وإلا كان الاستحقاق واردا على ملك المشتري وهو الأرض والبناء بلا رجوع له على البائع أصلا فتنبه لذلك.

الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (6/ 192) دار الفكر-بيروت:

وقد ظهر لك أن الشارح جرى هنا على قول الكرخي، وكذا فيما سيأتي حيث قيد قول المتن، يؤمر بالقلع بما إذا كانت قيمة الأرض أكثر فما اقتضاه التشبيه في قوله: وكذا لو غصب أرضا من أنه لا يؤمر بالقلع صحيح،؛ لأن الكلام فيما إذا كانت قيمة البناء أكثر ولم يتعرض لكلام غير الكرخي، وإن كان المفتى به كما علمت فافهم (قوله يضمن صاحب الأكثر قيمة الأقل) فإن كانت قيمتهما على السواء يباع عليهما، ويقتسمان الثمن تاترخانية۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 175) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، كراتشي:

(المادة 906) إذا كان المغصوب أرضا وكان الغاصب أنشأ عليها بناء أو غرس فيها أشجارا يؤمر الغاصب بقلعها وإن كان القلع مضرا بالأرض فللمغصوب منه أن يعطي قيمته مستحق القلع ويضبط الأرض ولكن لو كانت قيمة الأشجار أو البناء أزيد من قيمة الأرض وكان قد أنشأ أو غرس بزعم سبب شرعي كان حينئذ لصاحب البناء أو الأشجار أن يعطي قيمة الأرض ويتملكها. مثلا لو أنشأ أحد على العرصة الموروثة له من والده بناء بمصرف أزيد من قيمة العرصة ثم ظهر لها مستحق فالباني يعطي قيمة العرصة ويضبطها.

الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (6/ 192) دار الفكر-بيروت:

(وطبخها أو شيها وطحن بر وزرعه وجعل حديد سيفا وصفر آنية والبناء على ساجة) بالجيم خشبة عظيمة تنبت بالهند (وقيمته) أي البناء (أكثر منها) أي من قيمة الساجة يملكها الباني بالقيمة وكذا لو غصب أرضا فبنى عليها أو غرس أو ابتلعت دجاجة لؤلؤة أو أدخل البقر رأسه في قدر أو أودع فصيلا فكبر في بيت المودع ولم يمكن إخراجه إلا بهدم الجدار أو سقط ديناره في محبرة غيره ولم يمكن إخراجه إلا بكسرها ونحو ذلك يضمن صاحب الأكثر قيمة الأقل والأصل أن الضرر الأشد يزال بالأخف، كما في هذه القاعدة من الأشباه.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام للعلامة علي حيدر(ج:2ص:574) دار الجيل:

رجل غصب ساجة وأدخلها في بنائه فإنه يتملك الساجة وعليه قيمتها فإن كانت قيمة الساجة والبناء سواء فإن اصطلحا على شيء جاز وإن تنازعا يباع البناء عليهما ويقسم الثمن بينهما على قدر ما لهما۔(الخانية)

شرح المجلة لحمد خالد الأتاسي (ج:3،ص:443)مكتبة رشيدية، كوئٹة:

وقدعلمت أن المجلة أخذت بقول الكرخي فيما إذا لم يكن باني ظالما وكانت قيمة البناء أو الشجر أكثر من قيمة الأرض، وسكتت عما إذا كانت القيمة على السواء، فهل يؤخذ بقول الكرخي من البيع عليهما أو بظاهر الرواية من الأمر بالقلع والرد؟ والظاهر الثاني؛ لأن هذه المادة أفادت أن الأخذ بقول الكرخي مشروط بشرطين: الأول أن تكون قيمة الأشجار أوالبناء أكثر من قيمة الأرض، والثاني أن يكون بزعم سبب شرعي، فإذا فقد أحد الشرطين يتعين الأخذ بظاهر الرواية المذكور في صدر المادة فتدبر وافهم۔

تعليقات الرافعي على رد المحتار: (ج:9ص:332) مكتبة رشيدية، كوئٹة:

ذكر بعض المتاخرين أن الأوفق بقواعد الشرع أن يفتي بقول الكرخي: إن كان الغاصب بنى أو غرس بزعم سبب شرعي وإلا فجواب الكتاب، أقول: هذا هو الأعدل عندي وهو الأوفق لما سبق  في كتاب الشفعة في بناء المشتري حيث فرق بين أخذ جبرا وبين أخذ على وجه شرعي۔

 

اس تمہید کے بعد تينوں سوالات کے  جوابات بالترتیب ملاحظہ فرمائیں:

1۔ منظوری دينے والے مجاز افسران کے این او سی جاری کرنے کا حکم:

مذکورہ عمارت بنانے کے لیے این او سی جاری کرنے والے مجاز افسران کا اس عمارت کے بننے میں سب سے بنیادی کردار ہے، ان سے متعلق  شرعی حکم کے اعتبار سے  این او سی جاری کرنے  کی دو صورتیں بنتی ہیں اور ان دونوں کا حکم علیحدہ علیحدہ ہے:

پہلی صورت: اگرمجاز افسران  نے دیانتاً اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اور قانون کے تمام پہلوؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عمارت بنانے کو درست سمجھ کرمنظوری  دی ہے تو اس صورت میں ان پر کسی قسم کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، نیز ایسی صورت میں اس منظوری کی بنیاد پر عمارت بنانے والے بلڈرز حضرات پر بھی کسی قسم کا ضمان واجب نہیں ہوتا، کیونکہ انہوں نے قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد عمارت بنائی ہے، اس لیے وہ عمارت بنانے میں قانوناً اور شرعاً حق بجانب ہیں۔ ایسی صورت میں مجاز ادارے کی طرف سے مذکورہ عمارت کو گرانے کا حکم نامہ جاری کرنا درست نہیں ہے، نیز اگر بالفرض کسی مصلحت کے پیشِ نظر یہ عمارت گرانا ضروری ہو تو گرانے سے پہلے اس عمارت میں فلیٹس اور دکانیں وغیرہ خریدنے والوں کو موجودہ قیمت کے مطابق ضمان ادا کرنا ضروری ہے اور یہ ضمان بیت المال  یعنی حکومتی خزانہ سے ادا کیا جائے گا۔ کیونکہ شریعت ریاست کو یہ حق نہیں دیتی کہ کسی شہری کی جائیداد کو اس کی رضامندی اور اس کو ضمان ادا کیے بغیر ضائع کردےیا اس پر ناجائز قبضہ کرے۔

دوسری صورت:

 اگر منظوری دینے والے مجازافسران نے رشوت یا کسی سفارش کی بنیاد پر دانستہ طور پر خلافِ قانون عمارت بنانے کا این او سی(NOC) جاری کیا ہے تواس کے ذمہ دار منظوری دینے والے مجاز افسران  ہوں گے، لہذا  عمارت گرانے کا حکم نامہ جاری کرنے والے ادارے کی ذمہ داری ہے کہ اولاً ان مجاز  افسران  کی تحقیق کی جائے،کیونکہ این او سی جاری کرنےسے پہلے مذکورہ زمین کی ملکیت کی تحقیق کرنا مجاز افسران  کی ذمہ داری میں شامل تھا، جس میں کوتاہی کی بناء پر انہوں نے خلافِ قانون این او سی جاری کیا، لہذا اپنے فرضِ منصبی میں کوتاہی کی بنیاد پر حکومت شرعی حدود کے مطابق ان افسران پر مالی يا جسمانی کسی بھی قسم کی سخت ترین  تعزیری سزا جاری کرے، جو دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بنے۔

 

مجاز افسران  پر عمارت کے ضمان کا حکم:

پیچھے ذکرکی گئی دوسری صورت میں کیا عمارت کا ضمان مجاز افسران کے ذمہ لام کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ کہ گرائی جانے والی بلڈنگ کا مکمل نقصان  بطورِ ضمان  شرعاً ان افسران کے ذمہ  لازم نہیں  کیا جا سکتا، کیونکہ این او سی (No Objection Certificate)کی حیثیت ایک اجازت نامے کی ہے، چنانچہ حکومت کی طرف سے قانونی رہنمائی کرنے والے ادارے سے اس حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ این او سی درحقیقت کوئی کام وغیرہ کرنے کے لیے حکومت یا کسی متعلقہ ادارے کی طرف سے جاری ہونے والے اجازت نامے(Permission Letter) کو کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کو یہ کام کرنے کی اجازت ہے، ادارے کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس کے بعد  کام  کرنے والا قانون کی رُو سے مجبور نہیں ہوتا، بلکہ  وہ باختیارہوتا ہے کہ وہ کام کرے یا نہ کرے۔

 این او سی سے متعلق مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں  فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرکام کرنے والے نے اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے کام کیا ہو تو اس صورت میں صرف  خلافِ قانون اجازت  نامہ جاری کرنے  پر ضمان کا حکم نہیں لاگوکیا جا سکتا، جس کی وجہ یہ ہے:

 فقہائے کرام رحمہم اللہ نے  لکھا  ہے کہ اگر كوئی شخص کسی سے کہے کہ تم  مجھے فلاں شخص سے خرید لو، دوسرا شخص اس کو خرید لے اور پھر ظاہر ہو جائے کہ وہ "حرّ" يعنی آزاد شخص ہے تواس صورت میں اگرچہ اس کی طرف سے دلالتاً دھوکہ دہی (کیونکہ اس کا اپنی ذات کو خریدنے کا کہنا اس کے غلام ہونے کی دلیل ہے)  کا عنصر پایا گیا ہےاوریہ شخص  خریدار کا مال ضائع ہونے کا سبب بنا ہے، لیکن اس کے باوجود اس شخص پر کسی قسم کا ضمان واجب نہیں ، اگرچہ خریدار کو فروخت کنندہ  سے ادا کی گئی قیمت واپس نہ ملے۔ نیزامام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اگر وہ شخص  اپنے غلام ہونے کی تصریح بھی کر دے، مثلا: یوں کہے کہ مجھے خریدلو، میں غلام ہوں اور پھر بعد میں آزادی کا علم ہو تو بھی اس پر ضمان واجب نہیں ہو گا اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ چیز کا ضمان عقدِ معاوضہ یا عقدِ کفالت کی صورت میں واجب ہوتا ہے، جبکہ یہاں صرف اخبارِ کاذب یعنی محض جھوٹی خبر دی گئی ہے۔  

     اسی طرح فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ  اگر کسی نے مسافر سے کہا:"اسلک هذا الطریق فإنه اٰمن"اس راستے پر چلے جاؤ، یہ پُر امن راستہ ہے، مسافر اس راستے پر چلا اور اس کا انقصان ہو گیا تو اس خبر دینے والے پر ضمان نہیں ہو گا اور اس کی وجہ یہی لکھی ہے کہ دھوکہ دینا صرف عقودِ معاوضہ میں ضمان کا سبب بنتا ہے،  البتہ اگر خبر دینے والا یوں کہے "أنا ضامن" تو اس صورت میں کفالہ کے سبب  ضمان کا حکم لگے گا۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہےکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے متسبّب یعنی نقصان کا سبب بننے والے کو بھی ضامن قرار دیا ہے تواس کا جواب یہ ہے کہ شرح مجلة الاحکام العدلیہ  کے مطابق متسبّب  کو درج ذیل چار شرطوں کے ساتھ نقصان کا ضامن ٹھہرایا جاتا ہے:

اوّل: فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول لکھا ہے کہ "المتسبّب لا يكون ضامنا ما لم يكن متعمدا"  یعنی  متسبّب اس وقت تک ضامن نہیں ہوتا، جب تک اس کا قصد نہ ہو۔ لہذا متسببّ عمداً  اور قصداً وہ  کام کرے تو ضامن ہو گا، ورنہ نہیں۔

دوم: متسبّب تعدی کا ارتکاب کرنے والا ہو، لہذا اگر کسی نے اپنی فصل کی باقیات کو ضائع کرنے کے لیے آگ جلائی اور اس آگ کی چنگاری اڑ کر نزدیکی فصل کو پہنچ گئی، جس سے وہ فصل جل گئی تو یہ شخص عدمِ تعدی کی وجہ سے ضامن نہ ہو گا، البتہ اگر تیز ہوا یا آندھی چلنے کے دن اس نے آگ جلائی تو یہ شخص تعدی کے تحقق کی وجہ سے ضامن ہو گا۔

سوم: وہ فعل عام طور پر چیز کے ضائع ہونے کا سبب بنتا ہو، جیسے کسی نے ایسے بچے کو سواری پر بٹھا کر چھوڑد دیا جو اپنے آپ کو قابو نہیں کر سکتا اور وہ بچہ گر کر مر گیا تو بٹھانے والا ضامن ہو گا، لیکن اگر وہ بچہ اپنے آپ کو سنبھال سکتا ہو، جیسے چھ سات سال کا بچہ تو ایسی صورت میں اس پر ضمان نہیں آئے گا، اگرچہ قاضی اس کو تعزیری سزا دے سکتا ہے۔

چہارم: سبب اور تلف (نقصان)کے درمیان فاعلِ مختار کا فعل نہ ہو، اگردرمیان میں فاعلِ مختار کا فعل ہو تو متسبّب ضامن نہ ہو گا، لہذا اگر کسی نے عام راستے میں گڑھا کھودا اور کسی شخص  نے جانور کو  اٹھا کر اس میں پھینک دیا تو گڑھا کھودنے والا ضامن نہیں ہو گا۔

جبکہ مذکورہ صورت میں چوتھی شرط نہیں پائی جا رہی، کیونکہ  بلڈر حضرات نے این او سی لینے کے بعد اپنی مرضی اور اختیار سے بلڈنگ بنائی ہے، مجاز افسران کی طرف سے ان کو مجبور نہیں کیا گیا تھا، اس لیے ناجائز جگہ پر بلڈنگ بنانے کی ذمہ داری بلڈرز پر ہی عائد ہو گی۔

 البتہ خلافِ قانون این او سی جاری کرنے پر مجاز افسران کو مالی یا جسمانی یا دونوں قسم کی تعزیری سزا  جاری کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،  کیونکہ ان کے خلافِ قانون این او سی جاری کرنے کی وجہ سے یہ عمارت بنائی گئی، اگر یہ افسران این او سی جاری نہ کرتے تو بلڈر حضرات ہرگز یہ عمارت نہ بنا سکتے، گویا کہ عمارت کے بننے میں ان کا کلیدی کردار ہے،  لہذا یہ افسران ہرگز معافی کے مستحق نہیں ہیں، لہذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے افسران کو قانون کی خلاف ورزی کرنے پر مالی یا جسمانی یا دونوں قسم کی  عبرتناک سزا دے اور حکومت عوام کے نقصان کی تلافی بطورِ تعزیر ان افسران سے کروائے، تاکہ دیگر افسران کو اس طرح کے خلافِ قانون کام کرنے  کی ہمت  اورجرات نہ  ہو۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 171،المادة: 888) دار الجيل، بيروت:

الإتلاف تسببا هو التسبب لتلف شيء يعني إحداث أمر في شيء يفضي إلى تلف شيء آخر على جري العادة ويقال لفاعله متسبّب فعليه إن قطع حبل قنديل معلق هو سبب مفض لسقوطه على الأرض وانكساره فالذي قطع الحبل يكون أتلف الحبل مباشرة وكسر القنديل تسببا.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (ج:2،ص:617) دار الجيل، بيروت:

[ (المادة 925) فعل أحد فعلا يكون سببا لتلف شيء فحل في ذلك الشيء فعل اختياري] (المادة 925)- (لو فعل أحد فعلا يكون سببا لتلف شيء فحل في ذلك الشيء فعل اختياري يعني أن شخصا آخر أتلف ذلك الشيء مباشرة يكون ذلك المباشر الذي هو صاحب الفعل الاختياري ضامنا يعني: لو حل فعل اختياري بين ذلك السبب والتلف.

كأن يتلف شخص آخر ذلك الشيء مباشرة كان صاحب ذلك الفعل الاختياري الذي هو الفاعل المباشر ضامنا ولا يضمن الشخص المتسبب تتفرع من هذه القاعدة مسائل عديدة: المسألة الأولى: إذا حفر أحد بئرا في الطريق العام فألقى آخر حيوان الغير وتلف في البئر لزم الضمان على الملقي وليس على حافر البئر ضمان.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (ج:2،ص:615،مادة 923) دار الجيل، بيروت:

القاعدة الأولى: المتسبب لا يكون ضامنا ما لم يكن متعمدا.۔۔۔۔۔۔۔ لو جفلت دابة أحد من آخر: يعني: إذا جفلت الدابة من الشخص من دون أن يقصد إجفالها ففرت وضاعت؛ فلا ضمان وكذلك لو اقترب منها من دون أن يقصد إجفالها. أما إذا أجفلها الشخص قصدا وفرت الدابة بسببه وضاعت كان ضامنا.

منحة الخالق على البحر الرائق (6/ 238) دار الكتاب الإسلامي،بيروت:

(قوله: بخلاف قوله إن غصب مالك إنسان إلخ) قال الرملي: أقول: في الدرر والغرر اسلك هذا الطريق فإنه أمن فسلك وأخذ ماله لم يضمن ولو قال إن كان مخوفا وأخذ مالك فأنا ضامن وباقي المسألة بحالها ضمن وصار الأصل أن المغرور إنما يرجع على الغار إذا حصل الغرور في ضمن المعاوضة أو ضمن الغار صفة السلامة للمغرور نصا۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (9/ 387) دار الكتب العلمية، بيروت:

فالحاصل: أن مجرد الغرور ليس يصلح سبباً للضمان والرجوع، ألا ترى أن من قال لغيره: اسلك هذا الطريق فإنه آمن فسلك وأخذ ماله لا ضمان على المخبر، فقد حصل الغرور، إنما الموجب للضمان والرجوع ضمان السلامة إما نصاً بأن قال لغيره: اسلك هذا الطريق فإنه آمن، فإن أخذ مالك فأنا ضامن لذلك، أو في عقد المعاوضة كما في الشراء وأشباهه من عقود المعاوضات.

البناية شرح الهداية (8/ 306) دار الكتب العلمية، بيروت:

[اشترى عبدا فإذا هو حر]

م: (قال) ش: أي محمد في " الجامع الصغير": م: (ومن اشترى عبدا فإذا هو حر) ش: كلمة إذا للمفاجأة، أي فظهر أنه حر م: (وقد قال العبد) ش: أي والحال أن العبد قد قال م: (للمشتري اشترني فإني عبد له) ش: إنما قيد بهذين القيدين لأنه لو قال وقت البيع: إني عبد ولم يأمره بالشراء أو قال: اشترني ولم يقل: إني عبد لا يرجع عليه بالثمن في قولهم، كذا ذكره الإمام التمرتاشي في جامعه محالا إلى شيخ الإسلام خواهر زاده.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 47) دار الفكر،بيروت:

(قوله ومن اشترى عبدا) أي اشترى إنسانا (قال له اشترني فإني عبد فإذا هو حر) أي فظهر أنه حر ببينة أقامها (فإن كان البائع حاضرا أو غائبا غيبة معروفة) أي يدرى مكانه (لا يرجع على العبد بشيء من الثمن الذي قبضه بائعه من الرجوع على القابض وإذا كان البائع لا يدرى أين هو رجع المشتري على العبد) بما دفع إلى البائع من الثمن (ورجع) العبد (على بائعه) بما رجع المشتري به عليه إن قدر، وإنما يرجع العبد على البائع مع أنه لم يأمره بالضمان عنه لأنه أدى دينه وهو مضطر في أدائه، بخلاف من أدى عن آخر دينا أو حقا عليه بغير أمره فليس مضطرا فيه فإنه لا يرجع به، والتقييد بالقيدين لأنه لو قال أنا عبد وقت البيع ولم يأمره بشرائه أو قال اشترني ولم يقل فإني عبد لا يرجع عليه بشيء۔

أصول الشاشي (ص: 356) دار الكتاب العربي – بيروت:

ولو حمل الصبي على دابة فسيرها فجالت يمنة ويسرة فسقط ومات لا يضمن ولو دل إنسانا على مال الغير فسرقه أو على نفسه فقتله أو على قافلة فقطع عليهم الطريق لا يجب الضمان على الدال ۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 179) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

(المادة 925) لو فعل أحد فعلا يكون سببا لتلف شيء فحل في ذلك الشيء فعل اختياري يعني أن شخصا آخر أتلف ذلك الشيء مباشرة يكون ذلك المباشر الذي هو صاحب الفعل الاختياري ضامنا.

 

  2،3۔ خلافِ قانون این او سی کی بنیاد پر تعمیر کی گئی عمارت گرانے کا حکم نامہ جاری کرنا:

اگر عدالت کی نظر میں واقعتاً خلافِ قانون این او سی جاری کیا گیا ہو، خواہ دانستہ طور پر یا کسی قانونی شق کی بنیاد پرغلطی سے این او سی جاری ہو گیا ہو تو بہر صورت عمارت گرانے کا آرڈر جاری کرنے سے پہلے عمارت کی قیمت لگوانا ضروری ہے اور مارکیٹ کے لوگوں سے لی گئی معلومات کے مطابق جب بھی کوئی ایسا پندرہ منزلہ عمارت پرمشتمل پروجیکٹ بنایا جاتا ہے تو اس میں زمین کی قیمت کم اور عمارت کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ اگر زمین کی قیمت زیادہ اور عمارت کی قیمت کم ہو تو اس میں بلڈر کو نقصان ہوتا ہے، اس لیے وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرتا کہ مہنگی زمین پر تھوڑی سی عمارت بنا کر فلیٹس کی شکل میں فروخت کر دے، اسی لیے پروجیکٹ بنانے سے پہلے وہ فیزیبلٹی رپورٹ (Feasibility Report) بناتا ہے، جس میں عمارت سے متعلق سب چیزوں کا حساب کرتا ہے اور پھر پرافٹ پر آگے فروخت کرتا ہے۔

 لہذا مذکورہ صورت میں اگر عمارت کی قیمت زیادہ ہو جیسا کہ مارکیٹ کے لوگوں نے بتایا تو تمہید میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگرکسی سببِ شرعی کی بنیاد پر غیر کی زمین پر عمارت بنالے تو اس صورت میں  مالک کو عمارت گرانے کا حق حاصل نہیں اور مذکورہ صورت میں عمارت بنانے کے جواز کے لیے مجاز افسران سے اجازت لینا اور قانونی اعتبار سے تمام کاغذات پورے کرنا سببِ شرعی ہونے کے لیے کافی ہے، اس لیے ایسی صورت میں شرعاً حکومت صرف زمین کی قیمت لینے کی حق دار ہے، اس کو عمارت گرانے کا حق حاصل نہیں۔

پھر زمین کی قیمت میں موجودہ قیمت کا اعتبار ہو گا، اگرچہ غصب شدہ چیز کے  ضمان میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے قبضہ یعنی غصب  کے دن کی قیمت کا حکم لکھا ہے، مگر یہ حکم غصب شدہ چیز کے ضائع اور ہلاک ہونے کی صورت میں ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں زمین بعینہ موجود ہے،  نیز حنفیہ کے مفتی بہ قول کے مطابق زمین میں غصب متحقق نہیں ہوتا، اس لیے حکومت کو اصولی طور پر زمین واپس لینے کا حق حاصل ہے، لیکن چونکہ اس زمین کے ساتھ غیر کا حق متعلق ہو چکا ہے، اس لیے اب حکومت موجودہ قیمت (Marke Value)کے اعتبار سے قیمت لینے کا حق  رکھتی ہے۔

 رہا یہ سوال کہ زمین کی قیمت کون ادا کرے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مارکیٹ کے حضرات نے بتایاکہ عام طور پر  جب کوئی شخص فلیٹ خریدتا ہے تو اس کو زمین کی لیز(Lease) نہیں دی جاتی، بلکہ فلیٹس کے نیچے زمین اور آخری فلیٹ کے اوپر والی چھت دونوں زمین کے بلڈرکی ملکیت شمار ہوتی ہے اورفلیٹس کے خریدارصرف بلڈنگ یعنی عمارت کے مالک سمجھے جاتے ہیں اورفلیٹس کے نیچے  زمین بلڈر کی ہی ملکیت سمجھی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر بالفرض عمارت گرِ جائے تو فلیٹس کے خریدار مالک کی اجازت کے بغیر اس جگہ پر دوبارہ نئے سرے سے تعمیرنہیں کر سکتے۔لہذا ایسی صورت میں صرف بلڈرز حضرات سے ہی زمین کی قیمت وصول کی جائے گی۔

 البتہ بعض حضرات نے بتایا کہ پاکستان کا قانون یہ ہے کہ بلڈر فلیٹس کے خریداروں کو زمین کی لیز بھی دے، لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے، لہذا اگر مذکورہ صورت میں فلیٹس کے خریداروں کو زمین کی لیز بھی دی گئی ہو تو اس صورت میں نیچے والی زمین تمام خریداروں کے درمیان مشترک اور ان کی ملکیت سمجھی جائے گی، ایسی صورت میں حکومت اگرچاہے تو بلڈرز سے قیمت لے لے، کیونکہ انہوں نے زمین غصب کی ہے اور اگر چاہے تو فلیٹس کے خریداروں سے قیمت لےلے،کیونکہ زمین پر فی الحال قبضہ ان کا ہے اور پھر وہ بلڈرز حضرات سے  ادا کی گئی رقم وصول کریں گے، جس کےلیے فلیٹس مالکان عدالت سے بھی رجوع کر سکتے ہیں، تاکہ عدالت ان کو بلڈرز حضرات سے زمین کی قیمت واپس دلوائے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ حکومت عام لوگوں کو مشقت میں مبتلا کرنے کی بجائے ابتداء  سے ہی  بلڈرز حضرات سے زمین کی قیمت وصول کر لے۔

خلاصۂ بحث:

پیچھے ذکر کی گئی مکمل بحث کا خلاصہ درج ذیل نکات کی صورت  میں نکلتا ہے:

  1. اگر بلڈرز حضرات نے قانونی کاروائی مکمل کی اور مجاز افسران نے بغیر رشوت لیے قانون کے تقاضے کے مطابق این او سی جاری کیا ہو تو حکومت کو یہ بلڈنگ گرانے کا حق حاصل نہیں، البتہ اگر کسی ریاستی مجبوری کے پیشِ نظر بلڈنگ گرانا ضروری ہو تو گرانے سے پہلے حکومت فلیٹس کے خریداروں کو ان کے فلیٹس کی موجودہ قیمت دینا ضروری ہے۔

  2. اگر بلڈرز حضرات نے دیانتاً قانونی کاروائی پوری کی ہو اور مجاز افسران نے قانون کی کسی شق میں گنجائش کی بنیاد پر این او سی جاری کیا ہو، مگر عدالتِ عالیہ کی نظر میں وہ درست نہ ہو تو اس صورت میں بھی حکومت عمارت گرانے سے پہلے عوام کو ان کے فلیٹس یعنی عمارت کی موجودہ قیمت ادا کرنے کی ذمہ دار ہو گی اور اس صورت میں مجاز افسران کی طرف سے نادانستہ طور پر ہونے والی خطاء کی وجہ سے ان پر  بطورِ تعزیرضمان لازم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ حکومت کے اجیرِ خاص کی حیثیت رکھتے ہیں اور اجیرخاص سے نادانستہ طور پر غلطی ہونے کی صورت میں اس پر ضمان واجب نہیں کیا جا سکتا۔

  3. اگربلڈرز نے حکومتی جگہ کا علم ہونے کے باوجود مجاز افسران کو رشوت یا کسی سفارش کے ذریعہ خلافِ قانون این او سی لیا ہو تواس صورت میں بلڈنگ اور زمین کی قیمت لگوائی جائے گی، اگر بلڈنگ کی قیمت زیادہ ہو(جیسا کہ مارکیٹ کے لوگوں نے بتایا کہ اگر ایک زمین پر پندرہ منزلہ عمارت قائم ہو تو عمارت کی قیمت زمین سے زیادہ ہوتی ہے)تو بھی مفتی بہ قول کے مطابق حکومت کو بلڈنگ گرانے کا حق حاصل نہیں، البتہ حکومت زمین کی قیمت وصول  کر سکتی ہے، نیز ایسی صورت میں مجاز افسران پر خلافِ قانون این او سی جاری کرنے پر تعزیری سزا  نافذکرنا  بھی حکومت کی ذمہ داری ہے، تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔

نوٹ: واضح رہے کہ پیچھے ذکر کیا گیا حکم اس وقت ہے جب مکمل عمارت حکومت کی جگہ پر تعمیر کی گئی ہو، لیکن اگر زیادہ زمین بلڈر کی ہو اور کچھ زمین حکومت کی ہو اور پھر اس مکمل زمین  پر پندرہ منزلہ عمارت بنا لی جائے تو ایسی صورت میں بطریقِ اولی حکومت کو عمارت گرانے کا حق حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ  اس صورت میں عمارت گرانے پر بلڈر کا اور بھی زیادہ نقصان ہو گا،چنانچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے شہتیر(لکڑی کی کڑی، اس کی جگہ آج کل انگلش میں لفظ"Beam" استعمال ہوتا ہے)   چھین  کر اس پر عمارت تعمیر کرلے تو اس صورت میں عمارت اور شہتیرکی قیمت کو دیکھا جاتا ہے، اگر عمارت کی قیمت زیادہ ہو تو  اس صورت میں مالک کو شہتیر واپس لینے کا حق حاصل نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے شہتیر کی قیمت وصول کر سکتا ہے، البتہ شہتیر کی قیمت زیادہ اور عمارت کی قیمت کم ہو تو اس صورت میں اس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنی تعمیر اکھاڑے اور شہتیر مالک کو واپس کرے۔

فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات میں اس کے اور بھی نظائر موجود ہیں،  جن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شریعت مالک اور غاصب میں سے ہر ایک کے حقوق کی پوری پوری رعایت  رکھتی ہے اور غاصب کو اس کے جرم کے مطابق ہی سزا اور ضمان کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے، لہذا ایسی صورت میں حکومت کو صرف اپنی غصب شدہ زمین کی قیمت واپس لینے کا حق حاصل ہو گا۔


حوالہ جات

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (5/ 436) دار الرسالة العالمية،بيروت:

عن زينب بنت أم سلمة، عن أم سلمة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنما انا بشر وإنكم تختصمون إلي، ولعل بعضكم ان يكون ألحن بحجته من بعض فاقضي له على نحو ما أسمع منه، فمن قضيت له من حق أخيه بشيء فلا ياخذ منه شيئا، فإنما ٲقطع له قطعة من النار".

موطأ مالك برواية الزهري (2/ 467، رقم الحديث: 2895) مؤسسة الرسالة:

حدثنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك، عن عمرو بن يحيى المازني، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: لا ضرر ولا ضرار.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 201) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

(مادة :1044) لو زاد المشتري على البناء المشفوع شيئا من ماله كصبغه فشفيعه مخير إن شاء تركه وإن شاء تملكه بإعطاء ثمن البناء وقيمة الزيادة , وإن كان المشتري قد أحدث على العقار المشفوع بناء أو غرس فيه أشجارا , فالشفيع بالخيار إن شاء تركه وإن شاء تملك المشفوع بإعطاء ثمنه وقيمة الأبنية والأشجار وليس له أن يجبر المشتري على قلع الأبنية أو الأشجار.

شرح المجلة لحمد خالد الأتاسي (ج:3،ص:632)مكتبة رشيدية، كوئٹة:

وهذا لأن ضرر الشفيع بإلزام قيمة البناء والغرس أهون من ضرر المشتري بالقلع؛ لأن الشفيع يحصل له بمقابلة القيمة عوض وهو البناء والغرس فلا يعد ضررا ولم يحصل للمشتري بمقابلة القلع شيئ فكان الأول أهون فكان أولى بالتحمل، ووجه ظاهر الرواية أنه بنى في محل تعلق به حق متأكد للغير مين غير تسليط من جهة من له الحق فينتقض اه وتمامه فيه وظاهر الرواية هو الذي مشت عليه المتون قاطبة وكان جمعية المجلة اختارت رواية أبي يوسف التي قال بها مالك والشافعي رفقا للناس، وحيث صدر الأمر السلطاني بالعمل به فليس للقاضي أن يحكم بخلافه۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 131):

قال - رحمه الله - (وبناء على ساجة) يعني إذا بنى على الساجة زال ملك مالكها عنها وأطلق في العبارة فشمل ما إذا كانت قيمة الساجة أكثر أو قيمة البناء وقال في الذخيرة هذا فيما إذا كان قيمة البناء أكثر من قيمة الساجة، أما إذا كان قيمة الساجة أكثر من قيمة البناء فلا يملكها وله أخذها والظاهر من التقييد بالبناء على الساجة أنه لو بنى على الأرض التي لا يتصور غصبها لا يملكها وفي المضمرات ولو غصب أرضا وبنى فيها وقيمة البناء أكثر من قيمة الأرض لا سبيل للمغصوب منه على الأرض ويضمن الغاصب قيمة أرضه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 192) دار الفكر-بيروت:

(قوله والبناء على ساجة) بالجيم خشبة عظيمة تنبت بالهند (وقيمته) أي البناء (أكثر منها) أي من قيمة الساجة يملكها الباني بالقيمة.

قال ابن عابدين: في الهداية قال الكرخي والفقيه أبو جعفر: إنما لا ينقض إذا بنى في حوالي الساجة؛ لأنه غير متعد في البناء، أما إذا بنى على نفس الساجة ينقض؛ لأنه متعد وجواب الكتاب يرد ذلك وهو الأصح (قوله بالجيم) أما الساحة بالحاء فتأتي (قوله خشبة عظيمة إلخ) أي صلبة قوية تستعمل في أبواب الدور وبنائها وأساسها أتقاني (قوله وقيمته أي البناء

 

أكثر منها) جملة حالية قال في المنح: وأما إذا كان قيمة الساجة أكثر من قيمة البناء، فلم ينقطع حق المالك عنها، كما في النهاية عن الذخيرة وبه قيد الزيلعي كلام الكنز اهـ وفيها عن المجتبى، فله أخذه وكذا في الساحة أي بالحاء۔

معين القضاة لشمس الحق الأفغاني (ص: 70):

" يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك ، ومن قال : إن العقوبة

المالية منسوخة فقد غلط وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته صلى

الله عليه وسلم مبطل لدعوى نسخها ، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولا إجماع۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ و في مادة:400"من لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال كذا في

 من حدود البزازية"۔

حاشية ابن عابدين (4/ 61) دار الفكر-بيروت:

مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ.


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
مفتی محمد صاحب
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76024
تاریخ اجراء :2022-02-12

فتوی پرنٹ